Watan ki mohabbat

قومیت کی بنیاد وطن

Watan ki mohabbat — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (27 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. تمہید
  3. وطن سے محبت ایک فطری حقیقت
  4. نیشنلزم اور حب الوطنی
  5. حب الوطنی
  6. مسلمانوں کی قومیت
  7. ایک غیر حقیقی سوچ
  8. قومیت کی بنیاد وطن
  9. قوم اور قومیت
  10. قومیت کا مسئلہ
  11. ہندستانی قومیت
  12. مادر وطن کہنا
  13. کیمونل ہارمنی
  14. حب الوطنی اور قومی یکجہتی
  15. گڈ انڈین
  16. رسول اللہ کی وطن سے محبت
  17. سچی حب الوطنی
  18. احساسِ وطنیت
  19. امیر بھارت، غریب امریکا
  20. یہ اسلام نہیں
  21. ایک مثال
  22. برادرانِ وطن کے ساتھ حسنِ سلوک
  23. نیشنل کیریکٹر
  24. سچی دیش بھکتی
  25. قومی شعور اور وطن کی تعمیر
  26. اتحاد اور ایثار
  27. سوال و جواب

قومیت کی بنیاد وطن p. 19

ڈاکٹر مبارک علی پاکستان کے ایک اعلی تعلیم یافتہ آدمی ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ آج کل مسلم امہ کا لفظ جس عالمی معنی میں بولاجاتا ہے وہ اس سے پہلے کبھی اسلامی دور میں موجود نہ تھا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مسلم امہ ایک مفروضہ ہے جس کا حقیقی تصور نہ پہلے تھا ، نہ اب ہے۔ مسلمانوں کی جو بڑی بڑی سلطنتیں بنی ہیں وہ بھی ذو معنی رہی ہیں مثلاً عثمانی ایمپائر کے دوران ارمنین ایک الگ ملت تھی اور اسے ملت ہی بولا جاتاتھا اور ملت کا لفظ بالعموم چھوٹی اقوام کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مسلمانوں میں قومی ریاستوں کا وجود بہت شروع سے رہا ہے۔ تمام مسلمہ اقوام کی شناخت الگ الگ علاقائی لسانی بنیادوں پر یا نسلی بنیادوں پر قائم رہی ہے۔ کیوں کہ اسلام مذہب ہے قوم نہیں۔ میثاق مدینہ میں بھی یہ چیز صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہے، جب یہود بھی مسلم امہ میں شامل تھے۔ یہ تصور وقت اور حالات کی مطابقت میں ڈھلتا رہا ہے۔ لہذا میری نظر میں ہمارے بین الاقوامی معاملات اور تعلقات انسانی بنیادوں پر ہونے چاہیئں۔ (سنڈے میگزین18مئی2003) p. 19unverified

رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئےاور پہلی اسلامی اسٹیٹ بنائی تو اس وقت وہاں کچھ یہودی قبیلے بھی آباد تھے، اس وقت آپ نے ایک ڈکلیریشن جاری کیا جس کو عام طور پر میثاق مدینہ کہا جاتا ہے۔ اس میثاق میں آپ نے لکھا تھا ، جس کا ایک جملہ یہ تھا کہ یہود مسلمانوں کے ساتھ ایک امت ہیں:وَإِنَّ ‌يهودَ ‌بَنِي ‌عَوْف ‌أُمَّةٌ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ (سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ503)۔ یعنی، اور یہ کہ بنو عوف کے یہود مسلمانوں کے ساتھ ایک امت ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ قومیت کی بنیاد ہمیشہ وطن ہوتا ہے، نہ کہ مذہب۔(ڈائری، 26اپریل2004) p. 20original + quote

اس جملہ میں امت کا لفظ تقریباً اسی معنی میں ہے جس معنی میں آج کل قوم (nation)کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یعنی مدینہ کے یہودی اور مدینہ کے مسلمان جو ایک ساتھ ایک وطن میں رہتے ہیں دونوں ہم قوم میں، دونوں ایک ہی قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس اصول کو ہندوستان پر منطبق کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہاں کے ہندو اور مسلمان دونوں ایک امت یا ایک قوم ہیں۔ دونوں کی قومیت (nationhood)ایک ہے۔ یہی معاملہ دوسرے ان ملکوں کا ہے جہاں مسلمان غیر مسلموں کے ساتھ رہتے ہیں۔(ڈائری، یکم اکتوبر 2003) p. 20