Tazkirul Quran (Urdu)

59. Al-Hashr

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

مدینہ کے مشرق میں یہودی قبیلہ بنو نضیر کی آبادی تھی۔ ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صلح کا معاہدہ تھا۔ مگر انہوں نے بار بار عہد شکنی کی۔ آخر کار 4 ھ میں اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کیے کہ مسلمانوں نے ان کو مدینہ سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ اس کے بعد وہ خیبر اور شام كے علاقے میں جا کر آباد ہوگئے۔ مگر ان کی سازشی سرگرمیاں جاري رہیں۔ یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں وہ اور دوسرے یہودی قبائل جزیرهٔ عرب سے نکلنے پر مجبور کردیے گئے۔ اس کے بعد وہ لوگ شام میں جا کر آباد ہوئے۔ ’’اللہ ان پر وہاں سے پہنچا جہاں ان کو گمان بھی نہ تھا‘‘ کی تشریح اگلے فقرہ میں موجود ہے۔ یعنی اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ انہوں نے بیرونی طور پر ہر قسم کی تیاریاں کیں۔ مگر جب مسلمانوں کی فوج نے ان کی آبادی کو گھیر لیا تو ساری طاقت کے باوجود ان پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ انہوں نے لڑنے کا حوصلہ کھودیا۔ اور بلا مقابلہ ہتھیار ڈال دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی جلا وطنی کا اعلان کیا تو منافقین ان کی حمایت پر آگئے۔ انہوں نے بنونضیر سے کہا کہ تم اپنی جگہ جمے رہو، ہم ہر طرح تمہاری مدد کریں گے۔ مگر منافقین کی یہ باتیں محض ان کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کے لیے تھیں۔ وہ اس پیشکش میں ہرگز مخلص نہ تھے۔ چنانچہ جب مسلمانوں نے بنو نضیر کو گھیر لیا تو منافقین میں سے کوئی بھی ان کی مدد پر نہ آیا — مفاد پرست گروہ کا ہر زمانہ میں یہی کردار رہا ہے۔original + quote

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی جلا وطنی کا اعلان کیا تو منافقین ان کی حمایت پر آگئے۔ انہوں نے بنونضیر سے کہا کہ تم اپنی جگہ جمے رہو، ہم ہر طرح تمہاری مدد کریں گے۔ مگر منافقین کی یہ باتیں محض ان کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کے لیے تھیں۔ وہ اس پیشکش میں ہرگز مخلص نہ تھے۔ چنانچہ جب مسلمانوں نے بنو نضیر کو گھیر لیا تو منافقین میں سے کوئی بھی ان کی مدد پر نہ آیا — مفاد پرست گروہ کا ہر زمانہ میں یہی کردار رہا ہے۔original + quote

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی جلا وطنی کا اعلان کیا تو منافقین ان کی حمایت پر آگئے۔ انہوں نے بنونضیر سے کہا کہ تم اپنی جگہ جمے رہو، ہم ہر طرح تمہاری مدد کریں گے۔ مگر منافقین کی یہ باتیں محض ان کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کے لیے تھیں۔ وہ اس پیشکش میں ہرگز مخلص نہ تھے۔ چنانچہ جب مسلمانوں نے بنو نضیر کو گھیر لیا تو منافقین میں سے کوئی بھی ان کی مدد پر نہ آیا — مفاد پرست گروہ کا ہر زمانہ میں یہی کردار رہا ہے۔

خدا کی طاقت بظاہر دکھائی نہیں دیتی۔ مگر انسانوں کی طاقت کھلی آنکھ سے نظر آتی ہے۔ اس بنا پر ظاہر پرست لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ سے تو بے خوف رہتے ہیں مگر انسانوں میں اگر کوئی زور آور دکھائی دے تو وہ فوراً اس سے ڈرنے کی ضرورت محسوس کرنے لگتے ہیں۔ خدا کے بارے میں ان کی بے شعوری انہیں ان کی دنیا کے بارے میں بھی بے شعور بنا دیتی ہے۔ ایسے لوگ جن کو صرف منفی مقصد نے متحد کیا ہو وہ زیادہ دیر تک اپنا اتحاد باقی نہیں رکھ پاتے کیونکہ دیرپا اتحاد کے لیے مثبت بنیاد درکار ہے اور وہ ان کے پاس موجود ہی نہیں۔

خدا کی طاقت بظاہر دکھائی نہیں دیتی۔ مگر انسانوں کی طاقت کھلی آنکھ سے نظر آتی ہے۔ اس بنا پر ظاہر پرست لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ سے تو بے خوف رہتے ہیں مگر انسانوں میں اگر کوئی زور آور دکھائی دے تو وہ فوراً اس سے ڈرنے کی ضرورت محسوس کرنے لگتے ہیں۔ خدا کے بارے میں ان کی بے شعوری انہیں ان کی دنیا کے بارے میں بھی بے شعور بنا دیتی ہے۔ ایسے لوگ جن کو صرف منفی مقصد نے متحد کیا ہو وہ زیادہ دیر تک اپنا اتحاد باقی نہیں رکھ پاتے کیونکہ دیرپا اتحاد کے لیے مثبت بنیاد درکار ہے اور وہ ان کے پاس موجود ہی نہیں۔

مدینہ کے منافقین بنو نضیر کو مسلمانوں کے خلاف ابھار رہے تھے۔ انہوں نے اس واقعہ سے سبق نہیں لیا کہ جلد ہی پہلے قریش اور قبیلہ بنو قینقاع ان کے خلاف اٹھے۔ مگر ان کو زبردست شکست ہوئی۔ جو لوگ شیطان کو اپنا مشیر بنائیں ان کا حال ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ وہ واقعات سے نصیحت نہیں لیتے۔ پہلے وہ جوش و خروش کے ساتھ لوگوں کو مجرمانہ افعال پر ابھارتے ہیں۔ پھر جب اس کا بھیانک انجام سامنے آتا ہے تو وہ طرح طرح کے الفاظ بول کر یہ چاہتے ہیں کہ اس کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو بری کرلیں۔ مگر اس قسم کی کوششیں ایسے لوگوں کو اللہ کی پکڑ سے بچانے والی ثابت نہیں ہوسکتیں۔

مدینہ کے منافقین بنو نضیر کو مسلمانوں کے خلاف ابھار رہے تھے۔ انہوں نے اس واقعہ سے سبق نہیں لیا کہ جلد ہی پہلے قریش اور قبیلہ بنو قینقاع ان کے خلاف اٹھے۔ مگر ان کو زبردست شکست ہوئی۔ جو لوگ شیطان کو اپنا مشیر بنائیں ان کا حال ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ وہ واقعات سے نصیحت نہیں لیتے۔ پہلے وہ جوش و خروش کے ساتھ لوگوں کو مجرمانہ افعال پر ابھارتے ہیں۔ پھر جب اس کا بھیانک انجام سامنے آتا ہے تو وہ طرح طرح کے الفاظ بول کر یہ چاہتے ہیں کہ اس کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو بری کرلیں۔ مگر اس قسم کی کوششیں ایسے لوگوں کو اللہ کی پکڑ سے بچانے والی ثابت نہیں ہوسکتیں۔

مدینہ کے منافقین بنو نضیر کو مسلمانوں کے خلاف ابھار رہے تھے۔ انہوں نے اس واقعہ سے سبق نہیں لیا کہ جلد ہی پہلے قریش اور قبیلہ بنو قینقاع ان کے خلاف اٹھے۔ مگر ان کو زبردست شکست ہوئی۔ جو لوگ شیطان کو اپنا مشیر بنائیں ان کا حال ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ وہ واقعات سے نصیحت نہیں لیتے۔ پہلے وہ جوش و خروش کے ساتھ لوگوں کو مجرمانہ افعال پر ابھارتے ہیں۔ پھر جب اس کا بھیانک انجام سامنے آتا ہے تو وہ طرح طرح کے الفاظ بول کر یہ چاہتے ہیں کہ اس کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو بری کرلیں۔ مگر اس قسم کی کوششیں ایسے لوگوں کو اللہ کی پکڑ سے بچانے والی ثابت نہیں ہوسکتیں۔

انسانی زندگی کو ’’آج‘‘ اور ’’کل‘‘ کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے۔ موجودہ دنیا انسان کا آج ہے اور آخرت کی دنیا اس کا کل ہے۔ انسان موجودہ دنیا میں جو کچھ کرے گا اس کا لازمی انجام اس کو آنے والی طویل تر زندگی میں بھگتنا پڑے گا۔ یہی اصل حقیقت ہے اور اسی حقیقت کا دوسرا نام اسلام ہے۔ انسان کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ اس حقیقتِ واقعی کو ہمیشہ ذہن میں رکھے۔ جو شخص اس حقیقت واقعی سے غافل ہوجائے اس کی پوری زندگی غلط ہو کر رہ جائے گی۔ اس معاملہ میں مسلمان اور غیر مسلمان کا کوئی فرق نہیں۔ مسلمانوں کو اس کا فائدہ اسی وقت ملے گا جب کہ واقعۃً وہ اس پر قائم ہوں۔ مسلمان اگر غفلت میں پڑجائیں تو ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو اس سے پہلے غفلت میں پڑنے والے یہود کا ہوا۔

انسانی زندگی کو ’’آج‘‘ اور ’’کل‘‘ کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے۔ موجودہ دنیا انسان کا آج ہے اور آخرت کی دنیا اس کا کل ہے۔ انسان موجودہ دنیا میں جو کچھ کرے گا اس کا لازمی انجام اس کو آنے والی طویل تر زندگی میں بھگتنا پڑے گا۔ یہی اصل حقیقت ہے اور اسی حقیقت کا دوسرا نام اسلام ہے۔ انسان کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ اس حقیقتِ واقعی کو ہمیشہ ذہن میں رکھے۔ جو شخص اس حقیقت واقعی سے غافل ہوجائے اس کی پوری زندگی غلط ہو کر رہ جائے گی۔ اس معاملہ میں مسلمان اور غیر مسلمان کا کوئی فرق نہیں۔ مسلمانوں کو اس کا فائدہ اسی وقت ملے گا جب کہ واقعۃً وہ اس پر قائم ہوں۔ مسلمان اگر غفلت میں پڑجائیں تو ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو اس سے پہلے غفلت میں پڑنے والے یہود کا ہوا۔

مدینہ کے مشرق میں یہودی قبیلہ بنو نضیر کی آبادی تھی۔ ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صلح کا معاہدہ تھا۔ مگر انہوں نے بار بار عہد شکنی کی۔ آخر کار 4 ھ میں اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کیے کہ مسلمانوں نے ان کو مدینہ سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ اس کے بعد وہ خیبر اور شام كے علاقے میں جا کر آباد ہوگئے۔ مگر ان کی سازشی سرگرمیاں جاري رہیں۔ یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں وہ اور دوسرے یہودی قبائل جزیرهٔ عرب سے نکلنے پر مجبور کردیے گئے۔ اس کے بعد وہ لوگ شام میں جا کر آباد ہوئے۔ ’’اللہ ان پر وہاں سے پہنچا جہاں ان کو گمان بھی نہ تھا‘‘ کی تشریح اگلے فقرہ میں موجود ہے۔ یعنی اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ انہوں نے بیرونی طور پر ہر قسم کی تیاریاں کیں۔ مگر جب مسلمانوں کی فوج نے ان کی آبادی کو گھیر لیا تو ساری طاقت کے باوجود ان پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ انہوں نے لڑنے کا حوصلہ کھودیا۔ اور بلا مقابلہ ہتھیار ڈال دیا۔

انسانی زندگی کو ’’آج‘‘ اور ’’کل‘‘ کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے۔ موجودہ دنیا انسان کا آج ہے اور آخرت کی دنیا اس کا کل ہے۔ انسان موجودہ دنیا میں جو کچھ کرے گا اس کا لازمی انجام اس کو آنے والی طویل تر زندگی میں بھگتنا پڑے گا۔ یہی اصل حقیقت ہے اور اسی حقیقت کا دوسرا نام اسلام ہے۔ انسان کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ اس حقیقتِ واقعی کو ہمیشہ ذہن میں رکھے۔ جو شخص اس حقیقت واقعی سے غافل ہوجائے اس کی پوری زندگی غلط ہو کر رہ جائے گی۔ اس معاملہ میں مسلمان اور غیر مسلمان کا کوئی فرق نہیں۔ مسلمانوں کو اس کا فائدہ اسی وقت ملے گا جب کہ واقعۃً وہ اس پر قائم ہوں۔ مسلمان اگر غفلت میں پڑجائیں تو ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو اس سے پہلے غفلت میں پڑنے والے یہود کا ہوا۔

قرآن اس عظیم حقیقت کا اعلان ہے کہ انسان آزاد نہیں ہے بلکہ اس کو اپنے تمام اعمال کی جواب دہی اللہ کے سامنے کرنی ہے، جو انتہائی طاقت ور ہے۔ اور ہر ایک کے اعمال کو بذات خود پوری طرح دیکھ رہا ہے۔ یہ خبر اتنی سنگین ہے کہ پہاڑ تک کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر انسان اتنا غافل اور بے حس ہے کہ وہ اس ہولناک خبر کو سن کر بھی نہیں تڑپتا۔ اللہ کے اسماء جو یہاں بیان کیے گئے ہیں وہ ایک طرف اللہ کی ذات کا تعارف ہیں۔ دوسری طرف وہ بتاتے ہیں کہ وہ ہستی کیسی عظیم ہستی ہے جو انسانوں کی خالق ہے اور ان کے اوپر ان کی نگرانی کر رہی ہے۔ اگر آدمی کو واقعۃً اس کا احساس ہوجائے تو وہ اللہ کی حمد و تسبیح میں سراپا غرق ہوجائے گا۔ کائنات اپنی تخلیقی معنویت کی صورت میں خدا کی صفات کا آئینہ ہے۔ وہ خود حمدوتسبیح میں مصروف ہو کر انسان کو بھی حمد و تسبیح کا سبق دیتی ہے۔

قرآن اس عظیم حقیقت کا اعلان ہے کہ انسان آزاد نہیں ہے بلکہ اس کو اپنے تمام اعمال کی جواب دہی اللہ کے سامنے کرنی ہے، جو انتہائی طاقت ور ہے۔ اور ہر ایک کے اعمال کو بذات خود پوری طرح دیکھ رہا ہے۔ یہ خبر اتنی سنگین ہے کہ پہاڑ تک کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر انسان اتنا غافل اور بے حس ہے کہ وہ اس ہولناک خبر کو سن کر بھی نہیں تڑپتا۔ اللہ کے اسماء جو یہاں بیان کیے گئے ہیں وہ ایک طرف اللہ کی ذات کا تعارف ہیں۔ دوسری طرف وہ بتاتے ہیں کہ وہ ہستی کیسی عظیم ہستی ہے جو انسانوں کی خالق ہے اور ان کے اوپر ان کی نگرانی کر رہی ہے۔ اگر آدمی کو واقعۃً اس کا احساس ہوجائے تو وہ اللہ کی حمد و تسبیح میں سراپا غرق ہوجائے گا۔ کائنات اپنی تخلیقی معنویت کی صورت میں خدا کی صفات کا آئینہ ہے۔ وہ خود حمدوتسبیح میں مصروف ہو کر انسان کو بھی حمد و تسبیح کا سبق دیتی ہے۔

قرآن اس عظیم حقیقت کا اعلان ہے کہ انسان آزاد نہیں ہے بلکہ اس کو اپنے تمام اعمال کی جواب دہی اللہ کے سامنے کرنی ہے، جو انتہائی طاقت ور ہے۔ اور ہر ایک کے اعمال کو بذات خود پوری طرح دیکھ رہا ہے۔ یہ خبر اتنی سنگین ہے کہ پہاڑ تک کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر انسان اتنا غافل اور بے حس ہے کہ وہ اس ہولناک خبر کو سن کر بھی نہیں تڑپتا۔ اللہ کے اسماء جو یہاں بیان کیے گئے ہیں وہ ایک طرف اللہ کی ذات کا تعارف ہیں۔ دوسری طرف وہ بتاتے ہیں کہ وہ ہستی کیسی عظیم ہستی ہے جو انسانوں کی خالق ہے اور ان کے اوپر ان کی نگرانی کر رہی ہے۔ اگر آدمی کو واقعۃً اس کا احساس ہوجائے تو وہ اللہ کی حمد و تسبیح میں سراپا غرق ہوجائے گا۔ کائنات اپنی تخلیقی معنویت کی صورت میں خدا کی صفات کا آئینہ ہے۔ وہ خود حمدوتسبیح میں مصروف ہو کر انسان کو بھی حمد و تسبیح کا سبق دیتی ہے۔

قرآن اس عظیم حقیقت کا اعلان ہے کہ انسان آزاد نہیں ہے بلکہ اس کو اپنے تمام اعمال کی جواب دہی اللہ کے سامنے کرنی ہے، جو انتہائی طاقت ور ہے۔ اور ہر ایک کے اعمال کو بذات خود پوری طرح دیکھ رہا ہے۔ یہ خبر اتنی سنگین ہے کہ پہاڑ تک کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر انسان اتنا غافل اور بے حس ہے کہ وہ اس ہولناک خبر کو سن کر بھی نہیں تڑپتا۔ اللہ کے اسماء جو یہاں بیان کیے گئے ہیں وہ ایک طرف اللہ کی ذات کا تعارف ہیں۔ دوسری طرف وہ بتاتے ہیں کہ وہ ہستی کیسی عظیم ہستی ہے جو انسانوں کی خالق ہے اور ان کے اوپر ان کی نگرانی کر رہی ہے۔ اگر آدمی کو واقعۃً اس کا احساس ہوجائے تو وہ اللہ کی حمد و تسبیح میں سراپا غرق ہوجائے گا۔ کائنات اپنی تخلیقی معنویت کی صورت میں خدا کی صفات کا آئینہ ہے۔ وہ خود حمدوتسبیح میں مصروف ہو کر انسان کو بھی حمد و تسبیح کا سبق دیتی ہے۔

یہود کو جو سزا دی گئی، وہ اللہ کے قانون کے تحت تھی۔ یہ سزا ان لوگوں کے لیے مقدر ہے جو پیغمبر کے مخالف بن کر کھڑے ہوں۔ بنو نضیر کے محاصرہ کے وقت ان کے باغات کے کچھ درخت جنگی مصلحت کے تحت کاٹے گئے تھے۔ یہ بھی براہِ راست خدا کے حکم سے ہوا۔ تاہم یہ کوئی عام اصول نہیں۔ یہ ایک استثنائی معاملہ ہے جو پیغمبر کے براہ راست مخاطبین کے ساتھ ایک یا دوسری شکل میں اختیار کیا جاتا ہے۔

یہود کو جو سزا دی گئی، وہ اللہ کے قانون کے تحت تھی۔ یہ سزا ان لوگوں کے لیے مقدر ہے جو پیغمبر کے مخالف بن کر کھڑے ہوں۔ بنو نضیر کے محاصرہ کے وقت ان کے باغات کے کچھ درخت جنگی مصلحت کے تحت کاٹے گئے تھے۔ یہ بھی براہِ راست خدا کے حکم سے ہوا۔ تاہم یہ کوئی عام اصول نہیں۔ یہ ایک استثنائی معاملہ ہے جو پیغمبر کے براہ راست مخاطبین کے ساتھ ایک یا دوسری شکل میں اختیار کیا جاتا ہے۔

یہود کو جو سزا دی گئی، وہ اللہ کے قانون کے تحت تھی۔ یہ سزا ان لوگوں کے لیے مقدر ہے جو پیغمبر کے مخالف بن کر کھڑے ہوں۔ بنو نضیر کے محاصرہ کے وقت ان کے باغات کے کچھ درخت جنگی مصلحت کے تحت کاٹے گئے تھے۔ یہ بھی براہِ راست خدا کے حکم سے ہوا۔ تاہم یہ کوئی عام اصول نہیں۔ یہ ایک استثنائی معاملہ ہے جو پیغمبر کے براہ راست مخاطبین کے ساتھ ایک یا دوسری شکل میں اختیار کیا جاتا ہے۔

دشمن کا جو مال لڑائی کے بعد ملے وہ غنیمت ہے اور جو مال لڑائی کے بغیر ہاتھ لگے وہ فئی ہے۔ غنیمت میں پانچواں حصہ نکالنے کے بعد بقیہ سب لشکر کا حصہ ہے۔ اور فئی سب کا سب اسلامی حکومت کی ملکیت ہے جو مصالحِ عامہ کے لیے خرچ کیا جائے گا۔ اسلام چاہتا ہے کہ مال کسی ایک طبقہ میں محدود ہو کر نہ رہ جائے۔ بلکہ وہ ہر طبقہ کے درمیان پہنچے۔ اسلام میں معاشی جبر نہیں ہے۔ تاہم اس کے معاشی قوانین اس طرح بنائے گئے ہیں کہ دولت سمٹ کر چند لوگوں میں محدود نہ ہوجائے، بلکہ وہ ہر سوسائٹي کے تمام لوگوں میں گردش کرتی رہے۔

دشمن کا جو مال لڑائی کے بعد ملے وہ غنیمت ہے اور جو مال لڑائی کے بغیر ہاتھ لگے وہ فئی ہے۔ غنیمت میں پانچواں حصہ نکالنے کے بعد بقیہ سب لشکر کا حصہ ہے۔ اور فئی سب کا سب اسلامی حکومت کی ملکیت ہے جو مصالحِ عامہ کے لیے خرچ کیا جائے گا۔ اسلام چاہتا ہے کہ مال کسی ایک طبقہ میں محدود ہو کر نہ رہ جائے۔ بلکہ وہ ہر طبقہ کے درمیان پہنچے۔ اسلام میں معاشی جبر نہیں ہے۔ تاہم اس کے معاشی قوانین اس طرح بنائے گئے ہیں کہ دولت سمٹ کر چند لوگوں میں محدود نہ ہوجائے، بلکہ وہ ہر سوسائٹي کے تمام لوگوں میں گردش کرتی رہے۔

دشمن کا جو مال لڑائی کے بعد ملے وہ غنیمت ہے اور جو مال لڑائی کے بغیر ہاتھ لگے وہ فئی ہے۔ غنیمت میں پانچواں حصہ نکالنے کے بعد بقیہ سب لشکر کا حصہ ہے۔ اور فئی سب کا سب اسلامی حکومت کی ملکیت ہے جو مصالحِ عامہ کے لیے خرچ کیا جائے گا۔ اسلام چاہتا ہے کہ مال کسی ایک طبقہ میں محدود ہو کر نہ رہ جائے۔ بلکہ وہ ہر طبقہ کے درمیان پہنچے۔ اسلام میں معاشی جبر نہیں ہے۔ تاہم اس کے معاشی قوانین اس طرح بنائے گئے ہیں کہ دولت سمٹ کر چند لوگوں میں محدود نہ ہوجائے، بلکہ وہ ہر سوسائٹي کے تمام لوگوں میں گردش کرتی رہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی جلا وطنی کا اعلان کیا تو منافقین ان کی حمایت پر آگئے۔ انہوں نے بنونضیر سے کہا کہ تم اپنی جگہ جمے رہو، ہم ہر طرح تمہاری مدد کریں گے۔ مگر منافقین کی یہ باتیں محض ان کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کے لیے تھیں۔ وہ اس پیشکش میں ہرگز مخلص نہ تھے۔ چنانچہ جب مسلمانوں نے بنو نضیر کو گھیر لیا تو منافقین میں سے کوئی بھی ان کی مدد پر نہ آیا — مفاد پرست گروہ کا ہر زمانہ میں یہی کردار رہا ہے۔original + quote