Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
پیغمبر اسلام کا اسوہ p. 397
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص تھا جس کا نام مُسَیلمِہ بن حُبَیب تھا۔ وہ یمامہ کا رہنے والا تھا۔ اس پیغمبر ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا۔10 ھجری میں اس نے اپنے دو آدمیوں کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خط بھیجا جس کا مضمون یہ تھا: مِنْ مُسَيْلِمَةَ رَسُولِ اللَّهِ، إلَى مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي قَدْ أُشْرِكْتُ فِي الْأَمْرِ مَعَكَ، وَإِنَّ لَنَا نِصْفَ الْأَرْضِ، وَلِقُرَيْشٍ نِصْفَ الْأَرْضِ، وَلَكِنَّ قُرَيْشًا قَوْمٌ يَعْتَدُونَ (سیرۃ ابن ھشام،جلد2،صفحہ 600)۔مسیلمہ خدا کے رسول کی طرف سے محمد خدا کے رسول کے نام۔ تمہارے اوپر سلامتی ہو۔ اس کے بعد یہ کہ میں نبوت میں تمہارے ساتھ تمہارا شریک بنا دیا گیا ہوں اور یہ کہ نصف زمین(عرب) ہمارے لئے ہے اور نصف زمین قریش کے لئے۔ مگر قریش حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہیں۔ p. 397original + quote
مسیلمہ کے سفیر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس کا خط پڑھا گیا تو آپ نے سفیروں سے پوچھا کہ تم لوگوں کا کہنا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی وہی کہتے ہیں جو وہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اگر ایسا نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہیں کئے جاتے تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا(أَمَا وَاَللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا) اس کے بعد آپ نے مسیلمہ کو حسب ذیل خط لکھوایا: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ، إلَى مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ: السَّلَامُ عَلَى مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَى. أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ الْأَرْضَ للَّه يُورَثُهَا مَنْ يُشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ، وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (سيرت ابن ہشام،جلد2،صفحہ600-601)بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ محمد اللہ کے رسول کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام۔ سلامتی ہے اس شخص کے لئے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اور زمین اللہ کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے اور انجام صرف متقیوں کے لئے ہے۔ p. 397unverified
اس واقعہ میں ایک طرف سچے رسول اور جھوٹے رسول کا تقابل ملتا ہے۔ مسیلمہ کا خط واضح طور پر جھوٹے رسول کا خط ہے اور پیغمبر اسلام کا خط واضح طور پر سچے رسول کا۔ p. 397
دوسری بات جو پیغمبر اسلام کے اسوہ سے معلوم ہوئی ہے وہ یہ کہ غیر قوم کا سفیر خواہ وہ بدترین مجرم کیوں نہ ہو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو اس کے وطن کی طرف واپس کر دیا جائے گا۔ ان معاملات میں بین الاقوامی اصول ہی اسلام کا اصل ہے۔ p. 398