Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
آئیڈیلزم کے بجائے پریگمیٹزم p. 368
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ اپنی ذات کے معاملہ میں آئیڈیلزم کو اختیار کرنے کی کوشش کرو۔ مگر دوسروں سے معاملہ کرنے میں پریگمیٹک حل(Pragmatic solution) پر راضی ہو جاؤ۔ یہ آپ کی ایک اہم سنت ہے اور آپ کی پوری زندگی اس سنت کی مثال نظر آتی ہے۔ p. 369
جس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان حدیبیہ کا معاہدہ لکھا جا رہا تھا، آپ نے اس میں یہ الفاظ لکھوائےهَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ۔ قریش کے نمائندہ نے اعتراض کیا کہ ہم آپ کو خدا کا رسول نہیں مانتے۔ اس لیے آپ محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبداللہ لکھوایئے۔ آپ نے محسوس کیا کہ اگر میں رسول اللہ کے لفظ پر اصرار کروں تو صلح کا معاہدہ نہیں ہو سکے گا۔ اس لیے آپ نے رسول اللہ کا لفظ کاغذ سے مٹا دیا اور اس کے بجائے محمد بن عبداللہ لکھوا دیا (مسند احمد، حدیث نمبر 3187)۔ p. 369original + quote
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو عظیم کامیابی حاصل کی اس میں اس سنت کا بڑا دخل ہے۔ یہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں بے شمار لوگ ہیں اور ہر آدمی کو آزادی حاصل ہے۔ اس لیے یہاں عملی معاملات میں پریگمیٹزم کا اصول اختیار کیے بغیر کوئی بڑی کامیابی حاصل کرناممکن نہیں۔ p. 369original + quote
پریگمیٹک سولیوشن یا عملی حل کو ماننا کوئی تنزل کی بات نہیں ہے۔ یہ حقیقت پسندی کی بات ہے، اور اس دنیا میںحقیقت پسندی ہی تمام کامیابیوں کی کنجی ہے۔ p. 369