Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
برائی کی قسمیں p. 261
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى الْخِلَالِ كُلِّهَا إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ( مسند أحمد،حدیث نمبر 22170)۔ یعنی، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن میں تمام خصلتیں پائی جا سکتی ہیں، سوا خیانت اور جھوٹ کے۔ p. 261original + quote
انسانی غلطیوں کا سبب عام طور پر دو ہوتا ہے، ایک ہوس ، اور دوسرے دنائت۔ ہوس کے تحت ہونے والی غلطی وہ ہے جو کوئی آدمی نفسیاتی جذبہ سے مغلوب ہو کر کر بیٹھتا ہے۔ دنائت کے تحت کی جانے والی غلطی وہ ہے جو کمینہ صفت ہونے کی بنا پر کسی شخص سے صادر ہوتی ہے۔ p. 261
حدیث میں جو بات کہی گئی ہے اس کی وجہ یہی فرق ہے۔ کوئی شخص جب کسی دوسری اخلاقی برائی میں ملوث ہوتا ہے، مثلاً غصہ میں کوئی سخت کارروائی کرنا، تو اس کا سبب نفس کی کمزوری ہوتی ہے۔ مخصوص حالات میں آدمی کے اوپر نفس کا غلبہ ہو جاتا ہے اور وقتی مغلوبیت کے تحت وہ ایک غلط فعل کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔ پھر جب نفسانی مغلوبیت ختم ہوتی ہے تو اس کے اوپر شدت سے ندامت کا احساس طاری ہو جاتا ہے۔ وہ خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگتا ہے کہ میں نے کیوں ایسا کیا۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ p. 262original + quote
مگر خیانت اور کذب کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہ برائی کی وہ قسم ہے جو کمینہ پن کی بنا پر آدمی سے صادر ہوتی ہے۔ اس کا ارتکاب وہ شخص کرتا ہے جس کی روح گندی ہوگئی ہو۔ اس کا سبب وقت مغلوبیت نہیں، بلکہ شرپسندی کی مستقل خصلت کی بنا پر آدمی اس کا ارتکاب کرتا ہے۔ ایسا فعل وہ شخص کرتا ہے جس کی روح مسخ ہوگئی ہو۔ اسی لیے وہ خیانت اور جھوٹ جیسی برائی کا مرتکب ہونے کے باوجود مطمئن رہتا ہے۔ اس کو کسی قسم کی بے چینی لاحق نہیں ہوتی اور نہ توبہ اور ندامت کی کیفیت اس کے اندر پیدا ہوتی۔ p. 262
جو برائی وقتی مغلوبیت کے تحت صادر ہو، اس کے متعلق امید ہے کہ اللہ اسے معاف کر دے گا۔ لیکن جس برائی کا سبب روحانی گندگی ہو اس کے لیے معافی کا کوئی سوال نہیں۔ p. 262