Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
نصرت کا قانون p. 230
قرآن میں ایک طرف تَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ کی تعلیم دی گئی ہے(33:3) اور دوسری طرف فرمایا کہ خُذُوا حِذْرَكُمْ (4:71)پہلی آیت کو اگر مطلق معنوں میں لیا جائے تو مومن کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ ہر معاملہ میں خدا پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائے۔ کیونکہ جب اصل حقیقت یہ ہو کہ جو کچھ ہوتا ہے، خدا کے کیے سے ہوتا ہے تو ا س کے بعد انسان کی اپنی تدبیر ایک غیر ضروری چیز معلوم ہونے لگتی ہے۔ بلکہ وہ اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ آدمی کو خدا کی مدد پر پورا بھروسہ نہیں۔ p. 230original + quote
اسی طرح دوسری آیت کو اگر اس کے لفظی اور ظاہری مفہوم کے اعتبار سے لیا جائے تو مومن کو بھی ٹھیک ویسے ہی اپنے بچاؤ کی یا اپنے معاملات کو درست کرنے کی تدبیر کرنا چاہیے جیسے کہ عام دنیا دار لوگ کرتے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت کو اگر اس کے پورے مفہوم میں لیا جائے تو دوسری آیت غیر متعلق ہے۔ اور اگر دوسری آیت کو اس کے پورے مفہوم میں لیا جائے تو پہلی آیت کی مطابقت دوسری آیت کے ساتھ ناقابل فہم نظر آنے لگتی ہے۔ p. 230
مگر حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں کوئی تضاد نہیں۔ یہ ایک ہی معاملہ کے دو پہلو ہیں۔ توکل علی اللّٰہ کی آیت خدا کی نسبت سے ہے اور خذواحِدرکم کی آیت بندے کی نسبت سے۔ p. 230
اصل یہ ہے کہ دنیا میں خدا کی جو مدد آتی ہے، وہ ہمیشہ اسباب کے پردے میں آتی ہے۔ اسباب کا پردہ ہٹا کر براہ راست انداز میں خدا کی مدد کبھی نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کو اپنی استطاعت کے مطابق پوری تذبیر کرنی پڑتی ہے۔ اگر وہ تدبیر نہ کرے تو گویا اس نے وہ حالات ہی فراہم نہیں کیے جس کے قالب میں اس کے لیے خدا کی مدد اترتی۔ p. 230
یہ دوطرفہ عقیدہ آدمی کے اندر بے پناہ اعتماد پیدا کریتا ہے۔ ایک طرف وہ تدبیر میں کمی نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خدا کی مدد جب بھی آئے گی تدبیر ہی کے اندر سے آئے گی۔ دوسری طرف اس کو اپنی کامیابی کا بے پناہ یقین ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جب میں نے تدبیر کی شرط پوری کر دی تو خدا کی طرف سے آنے والی مدد بھی ضرور آ کر رہے گی۔ p. 231
مومن کوشش کے معاملہ میں مجاہد ہوتا ہے اور نتیجہ کے معاملہ میں متوکل۔ p. 231