Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
خدمت عام p. 120
قرآن میں اعلیٰ انسان کی جو صفات بتائی گئی ہیں، ان میں سے ایک صفت یہ ہے کہ___ وہ لوگ جن کے مالوں میں مقرر حصہ ہے، سوال کرنے والے کے لیے بھی اور محروم کے لیے بھی (وَالَّذِينَ فِي أَمْوالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ ۔لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ)70:24-25۔ p. 120original + quote
یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کے کام آئے۔ وہ دوسروں کی خدمت کر سکے۔ اسلام آدمی کے اس جذبہ کو آخری حد تک جگا دیتا ہے۔ جو آدمی مومنانہ اور مسلمانہ جذبات میں جی رہا ہو، وہ سمجھنے لگتا ہے کہ میرا مال یا میری چیزیں صرف میری نہیں ہیں۔ اس میں دوسروں کا بھی حق ہے۔ وہ نہ صرف ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس سے سوال کریں۔ بلکہ وہ ان کا بھی مددگار بن جاتا ہے جو ضرورت مند ہیں، اگرچہ انھوں نے کسی وجہ سے سوال نہیں کیا۔ p. 121
قرآن میں محروم کا جو لفظ آیا ہے، اس کی تشریح امام مالکؒ نے یہ کی ہے کہ اس سے مراد وہ ہے جو رزق سے محروم رہا (أَنَّهُ الَّذِي يُحْرَمُ الرِّزْقَ)۔حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے ایک جانور کو دیکھا جو بھوکا تھا اور بظاہر اس کے کھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بھی انھیں میں سے ہے جس کو قرآن میں محروم کہا گیا ہے۔ ( تفسير القرطبي ،جلد17،صفحہ 39 ) مفسرالرازی نے مزید توسیع دی ہے اور لکھا ہے کہ اس میں درخت بھی شامل ہیں۔ اگر کوئی درخت پانی نہ ملنے کی وجہ سے سوکھ رہا ہو تو وہ بھی محروم ہے، اور اس کو پانی پہنچانا اہل ایمان کی ذمہ داری ہے۔ p. 121quoted source
ایمان جب کسی آدمی کے دل میں جگہ پاتا ہے تو اس کے اندر خدمتِ عام کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ نہ صرف سائل کی ضرورت پوری کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، بلکہ اس کا احساس یہ ہو جاتا ہے کہ ہر محروم کا اس کے اوپر حق ہے، خواہ وہ انسان ہو یا جانور یا کوئی درخت۔ p. 121
اسلام آدمی کو انتہائی سنجیدہ اور انتہائی حساس بنا دیتا ہے۔ ایسا آدمی سارے لوگوں کو اپنا سمجھنے لگتا ہے، وہ جان لیتا ہے کہ اس کا مال خدا کا عطیہ ہے۔ اس کا یہ احساس اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اس کو خدا کی راہ میں خرچ کرے۔ p. 121