Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
دعا بھی عمل p. 131
ابن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ کہ مکی دور میں قبیلہ دوس کے ایک شخص طفیل بن عَمر والدوسی آپ کے پاس آئے۔ انھوں نے آپ سے قرآن کو سنا اور پھر اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد آپ کی اجازت سے وہ اپنے قبیلہ میں واپس گئے اور ان کو اسلام کی طرف بلانا شروع کیا مگر قبیلہ کے لوگوں نے انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کیا۔ طفیل بن عمرو دوبارہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ قبیلہ دوس کے لوگ حق کے معاملہ میں سرکشی کر رہے ہیں۔ آپ ان کے خلاف بددعا کیجئے ۔ آپ نے اس کے برعکس ہاتھ اٹھایا اور ان کے حق میں دعا کرنا شروع کیا اے اللہ، تو قبیلہ دوس کو ہدایت دے، اے اللہ تو قبیلہ دوس کو ہدایت دے۔ پھر آپ نے طفیل بن عمرو سے کہا کہ اپنے قبیلہ کی طرف واپس جاؤ اور ا س کو دوبارہ دعوت دو۔ اور اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو (سیرت ابن ہشام، جلد 1 ،صفحہ 382-384 ) p. 131unverified
یہ دعا اور یہ نصیحت کوئی سادہ سی بات نہیں تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ نے طفیل بن عمرو کو منفی نفسیات سے نکال کر مثبت نفسیات کی طرف موڑ دیا۔ جن لوگوں کے بارے میں ان کے اندر بیزاری کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا ان کے لیے ان کے اندر خیرخواہی کا جذبہ بیدار کر دیا۔ جس معاملہ میں طفیل بن عمرو صرف حال کو دیکھ رہے تھے اس معاملہ میں آپ نے ان کے اندر مستقبل کو دیکھنے کی نظر پیدا کر دی۔ p. 131
دعا ایک اعتبار سے خدا سے مانگنا ہے۔ اور دسرے اعتبار سے وہ اپنی نفسیات کی صالح تربیت ہے۔ وہ اپنے اندر ربانی طاقت کو بیدار کرنا ہے۔ طفیل بن عمرو جب اس نئی نفسیات کے ساتھ دوبارہ اپنے قبیلہ میں گئے تو وہ گویا ایک نئے انسان بن چکے تھے۔ اب وہ اس قابل تھے کہ زیاہ موثر انداز میں حق کی دعوت ان لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں۔ اس کے بعد نتیجہ ظاہر تھا۔ پورے قبیلہ نے اسلام قبول کر لیا۔ p. 132
جس سوسائٹی میں لوگ ایک دوسرے کے اتنے خیرخواہ بن جائیں کہ وہ ایک دوسرے کے لیے خدا سے دعا کرنے لگیں وہاں اس کا لازمی فائدہ یہ ہو گا کہ پوری سوسائٹی میں مثبت نفسیات کو فروغ حاصل ہو گا، اور بلاشبہہ سوسائٹی بنانے کے لیے سب سے زیادہ ضروری جو چیز مطلوب ہے وہ یہی مثبت نفسیات ہے۔ p. 132