Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اعلیٰ ظرفی p. 265
مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے سر سید مرحوم کا ایک واقعہ(الافاضات الیومیہ، جلد1) ان الفاظ میں بیان کیا ہے p. 265other source
ایک انگریزی تعلیم یافتہ شخص ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے پریشان تھا۔ کیا سوجھی کہ ایک بڑے انگریز افسر کے پاس پہنچا اور کہا کہ میں سر سید کا داماد ہوں مجھ کو ملازمت کی ضرورت ہے۔ وہ انگریز بہت ہی خاطر سے پیش آیا اور کہا کہ آپ ٹھہریں۔ اس کو ٹھہرا کر اس کی لاعلمی میں ایک تار سرسید کو دیا کہ فلاں شخص اس نام کا ہمارے پاس ملازمت کے خیال سے آیا ہے اور اپنے آپ کو آپ کا داماد کہتا ہے کیا یہ واقعہ صحیح ہے؟ p. 266unverified
جواب میں سر سید نے اس انگریز کو لکھا بالکل صحیح ہے۔ ضرور آپ ملازمت کے لئے کوشش فرما دیں میں آپ کا ممنون ہوں گا۔ اس شخص کو ملازمت مل گئی۔ p. 266
ایک روز اتفاقاً اس انگریز نے اس شخص سے یہ واقعہ(سر سید سے تحقیق حال کا) بیان کر دیا۔ یہ بہت ہی شرمندہ ہوا اور کچھ عرصہ کے بعد یہ شخص علی گڑھ آیا۔ اور سر سید سے مل کر معافی کی درخواست کی اور کہا میں وہی ہوں جس نے اپنے آپ کو آپ کا داماد بتا کر ملازمت لی ہے۔ یہ گستاخی بضرورت تھی۔ p. 266
سر سید نے جواب میں کہا کہ گو یہ بات اس وقت غلط تھی۔ مگر اب صحیح ہو جائے گی، داماد کہتے ہیں بیٹی کے شوہر کو۔ اس کی ایک صورت تو یہ تھی کہ میری بیٹی آپ کی بیوی ہوتی، سو یہ تو نہیں ہو سکتا۔ مگر دوسری صورت ممکن ہے وہ یہ کہ آپ کی بیوی کو میں اپنی بیٹی بنا لوں سو میں آپ کی بیوی کو اپنی بیٹی بناتا ہوں اور وہ میری بیٹی اور میں اس کا باپ! p. 266original + quote
یہ توجیہہ وقتی ہی نہ تھی۔ بلکہ تازندگی باپ بیٹی اور داماد کا سا برتاؤ رکھا۔ بلانا، لینا دینا سب اسی طرح رکھا۔(تہذیب الاخلاق علی گڑھ) p. 267
ساری دنیا کا ہمدرد بننا بہت آسان ہے۔ مگر قوم کا ایک مصیبت زدہ فرد، جس سے ٹھیس بھی پہنچی ہو، اس کے معاملہ کو اپنا معاملہ بنا لینا سخت مشکل ہے۔ یہ وہی شخص کر سکتا ہے جو قوم کا سچا خیر خواہ ہو اور اسی کے ساتھ بڑے دل والا بھی۔ p. 267