Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
محنت کی کمائی p. 107
قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں سے فرمایا کہ تم لوگ پاک اور طیّب چیزوں سے کھاؤ (23:51) پاکیزہ روزی سے پاکیزہ روح پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے اسلام میں پاکیزہ روزی پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ p. 107original + quote
البخاری کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ، خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ (صحيح البخاري،حدیث نمبر 2072)یعنی کسی آدمی کی سب سے زیادہ بہتر روزی یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ کی محنت کا کھانا کھائے۔ p. 107original + quote
مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ پاکیزہ کمائی کون سی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ( وہ جو آدمی نے اپنے ہاتھ سے محنت کر کے کمایا ہو (قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: " عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ (مسند أحمد،حدیث نمبر 17265) p. 108unverified
محنت کی کمائی ہی دراصل کمائی ہے۔ اس کے بغیر جو حاصل کیا جائے وہ لوٹ ہے۔ محنت کرنے والا اپنی محنت سے جو کچھ حاصل کرتا ہے وہ اس کا جائز حق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ غلط تدبیروں سے جو کچھ حاصل کیا جائے وہ دراصل دوسروں کا حصہ تھا جس کو ایک شخص نے کسی حق کے بغیر ناجائز طور پر اپنے لیے حاصل کر لیا۔ p. 108
مذکورہ حدیث میں ’’ہاتھ‘‘ کا لفظ علامتی طور پر آیا ہے۔ اس میں جسم اور دماغ دونوں قسم کی محنت شامل ہے۔ سماجی سرگرمیوں میں دونوں قسم کی محنت کی ضرورت ہوتی ہے، اور دونوں طرح کی محنت جائز محنت ہے۔ آدمی خواہ جسمانی محنت سے حاصل کرے یا دماغی محنت سے، دونوں ہی یکساں طور پر اس حدیث کا مصداق ہوں گے۔ البتہ اس کو واقعی محنت ہونا چاہیے۔ p. 108
محنت کی کمائی سے فرد کے اندر پاکیزہ شخصیت بنتی ہے اور سماج کے اندر پاکیزہ ماحول۔ اس طرح محنت کی کمائی سے انفرادی زندگی اور اجتمائی زندگی دونوں ہی درست ہوتی چلی جاتی ہیں۔ p. 108
جس سماج میں لوگ محنت کر کے کمائیں وہاں منصفانہ ماحول بنے گا۔ اور جہاں لوگ بلامحنت حاصل کرنا چاہیں وہاں مجرمانہ ماحول۔ p. 108