Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
فرشتہ کی مدد p. 126
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَامَ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ! قَالَ: " إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، وَقَعَ الشَّيْطَانُ (مسند احمد، حدیث نمبر 9624)۔ p. 126unverified
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابوبکر کو برا کہا (حضرت ابوبکر چپ رہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بیٹھے ہوئے تھے، آپ تعجب کر رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔ پھر جب اس شخص نے بہت زیادہ کہا تو حضرت ابوبکر نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا۔ آپ وہاں سے اٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر چل کر آپ سے ملے اور کہا کہ اے خدا کے رسول وہ آدمی مجھ کو برا کہہ رہا تھا اور آپ وہاں بیٹھے ہوئے تھے (اور خوش تھے) لیکن جب میں نے اس کی بعض بات کا جواب دیا تو آپ غصہ ہو گئے اور وہاں سے اٹھ گئے۔ آپ نے فرمایا کہ (جب تم چپ تھے) تو تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو اس کا جواب دے رہا تھا۔ مگر جب تم نے خود اس کی بات کا جواب دیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان آ گیا۔ p. 127hadith
ایک آدمی آپ کو برا کہے۔ اس کے جواب میں آپ بھی اس کو برا کہیں تو بات بڑھتی ہے۔ جس آدمی نے پہلے صرف ایک سخت لفظ کہا تھا۔ اس کے بعد وہ سبّ و شتم پر اتر آتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھ پاؤں سے آپ کو تکلیف پہنچانا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ آخر میں پتھر اٹھا لیتا ہے۔ آپ کا جواب نہ دینا اس کو ابتدائی حد پر روک دیتا ہے، اور آپ کا جواب دینا اس کو اس کی آخری حد پر پہنچا دیتا ہے۔ p. 127
اس کے بجائے اگر ایسا ہو کہ ایک شخص آپ کو برا کہے یا گالی دے مگر آپ خاموش ہو جائیں۔ آپ اشتعال انگیز کلام کے باوجود مشتعل نہ ہوں، تو آپ دیکھیں گے کہ اس کا لہجہ آہستہ آہستہ دھیما ہو رہا ہے۔ اس کے غبارے کی ہوا نکلنا شروع ہو جائے گی۔ یہاں تک کہ دھیرے دھیرے وہ اپنے آپ چپ ہو جائے گا۔ آپ کا بولنا دوسرے کو مزید بولنے پر آمادہ کرتا ہے، اور اگر آپ چپ ہو جائیں تو آپ کا چپ ہونا آخر کار دوسرے شخص کو بھی چپ ہونے پر مجبور کر دے گا۔ p. 127
دونوں صورتوں میں یہ فرق کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب برا کرنے والے کا جواب برائی سے دیا جائے تو اس کے اندر ردعمل کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ اب شیطان کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اس کی انا کو جگائے۔ وہ اس کے غصہ کو بڑھا کر اس کو آخری درجہ تک پہنچا دے۔ وہ برائی جو اس کے اندر سوئی ہوئی تھی، وہ پوری طرح جاگ کر آپ کے بالمقابل کھڑی ہو جاتی ہے p. 127
اس کے برعکس جب برا کرنے والے کے ساتھ اعراض کا معاملہ کیا جائے تو اس کے اندر خود احتسابی کی نفسیات جاگتی ہے۔ اب فرشتہ کو موقع ملتا ہے کہ وہ آدمی کی فطرت کو بیدار کرے۔ وہ اس کے ضمیر کو متحرک کرنے کی کوشش کرے۔ وہ اس کے اندر شرمندگی کا جذبہ پیدا کرے۔ وہ اس کو اپنی اصلاح پر ابھارے۔ p. 128
پہلی صورت میں آدمی شیطان کے زیر اثر چلا جاتا ہے اور دوسری صورت میں فرشتہ کے زیر اثر۔ ایک واقعہ کی صورت میں دوسرے کو ملزم ٹھہرا کر اس سے انتقام لینے کے جذبات بھڑکتے ہیں اور دوسرے واقعہ کی صورت میں اپنے کو ذمہ دار ٹھہرا کر اپنی اصلاح کرنے کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ p. 128
ہر آدمی کے سینہ میں دو طاقتیں چھپی ہوئی ہیں۔ ایک طاقت آپ کی موافق ہے جس کی نمائندہ آدمی کا ضمیر ہے۔ دوسری طاقت آپ کی مخالف ہے۔ اس کی نمائندہ آدمی کی انا ہے۔ اب یہ آپ کے اپنے اوپر ہے کہ آپ دونوں میں سے کس طاقت کو جگاتے ہیں۔ آپ اپنے قول و عمل سے جس طاقت کو جگائیں گے وہی آپ کے حصہ میں آئے گی۔ p. 128
ایک طاقت کو جگانے کی صورت میں فریق ثانی آپ کا دشمن بن جائے گا۔ اور اگر آپ نے دوسری طاقت کو جگایا تو خود فریق ثانی کے اندر ایک ایسا عنصر نکل آئے گا جو آپ کی طرف سے عمل کر کے اس کو آپ کے مقابلہ میں مغلوب و مفتوح بنا دے ۔ p. 128
مذکورہ واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی پر غصہ نہیں ہوئے جو بدکلامی کر رہا تھا۔ مگر حضرت ابوبکر صدیق کی زبان سے برا کلمہ نکلا تو آپ غصہ ہو گئے۔ گدھے کے لیے شریعت میں اعراض کا اصول ہے اور انسان کے لیے امر بالمعروف کا اصول۔ p. 129
عام طور پر لوگ جواب دینے کو دفاع سمجھتے ہیں۔ اگر کسی شخص سے کوئی تکلیف پہنچے تو فوراً اس سے مقابلہ کرنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ دفاع کر رہے ہیں، مگر اس سے بھی زیادہ بڑا دفاع یہ ہے کہ زیادتی کے جواب میں آدمی خاموش ہو جائے۔ مقابلہ کے بجائے وہ اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ p. 129
خاموشی بے عملی نہیں ہے بلکہ وہ سب سے بڑا عمل ہے۔ آدمی جب جوابی ٹکراؤ کرتا ہے تو وہ صرف اپنی ذات پر بھروسہ کر رہا ہوتا ہے۔ مگر جب وہ زیادتی کے بعد چپ ہو جاتا ہے تو وہ پورے نظام فطرت کو اپنی طرف سے مقابلہ کرنے کے لیے کھڑا کر دیتا ہے۔ ذاتی دفاع ایک کمزور دفاع ہے۔ اور فطرت کا دفاع زیادہ طاقت ور دفاع۔ p. 129
اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیا میں یہ نظام قائم کیا ہے کہ جب بھی کہیں کوئی گندگی پیدا ہوتی ہے تو فوراً بے شمار بیکٹیریا وہاں جمع ہو کر اس مادہ کو (decompose) کرنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ گندگی کا خاتمہ کر سکیں۔ اسی طرح یہ بھی اللہ تعالیٰ کا قائم ہوا نظام ہے کہ جب کوئی انسان کسی کے اوپر زیادتی کرے تو پورا نظام فطرت اس کی اصلاح کے لیے حرکت میں آ جائے۔ p. 129
اس اعتبار سے خاموشی گویا ایک قسم کا انتظار ہے۔ جب آدمی زیادتی پر خاموش ہو جاتا ہے تو گویا وہ اپنے آپ کو حالتِ انتظار کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ عالمی ضمیر کو کام کرنے کا موقع دے کر اس کے نتیجہ کا منتظر ہو جاتا ہے۔ p. 129
ایسی حالت میں آدمی کو چاہیے کہ وہ خود اقدام کر کے فطرت کے عمل میں بگاڑ نہ پیدا کرے۔ بلکہ انتظار کی پالیسی اختیار کر کے فطرت میں ہونے والے عمل کے ساتھ تعاون کرے۔ p. 130