Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مومن کا طریقہ p. 236
صحیح البخاری کی’’کتاب التفسیر‘‘ میں قرآن سے متعلق بہت سی روایتیں جمع کی گئی ہیں۔ سورۃ الحجرات کی تفسیر کے تحت ایک واقعہ دو واسطوں سے نقل کیا گیا ہے۔ p. 236
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ قریب تھا کہ دو اصحاب خیر ہلاک ہو جائیں، یعنی ابوبکر اور عمر۔ ان دونوں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس اپنی آوازیں بلند کیں۔ یہ اس وقت ہوا جب کہ بنو تمیم کا وفد مدینہ آیا۔ ابو بکر نے کہا کہ القعقاع بن معبد کو ان کا امیر بنایئے۔ عمر نے کہا کہ الاقرع بن حابِس کو ان کا امیر بنایئے۔ پھر ابو بکر نے عمر سے کہا کہ تم نے صرف میری مخالفت کے لیے ایسا کہا ہے۔ عمر نے جواب دیا کہ میرا مقصد تمہاری مخالفت نہیں۔ پھر دونوں بحث کرنے لگے۔ یہاں تک کہ ان کی آوازیں اونچی ہوگئیں۔ اس پر آیت اتری کہ: اے ایمان والو، تم اللہ اور اس کے رسول کے آگے نہ بڑھو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اے ایمان والو، تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اوپر مت کرو… ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال حبط ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو(49:1-2)۔ p. 236quoted source
ابن الزبیر کہتے ہیں کہ اس کے بعد عمر کا یہ حال ہوا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح بولتے کہ پوری طرح سنائی نہ دیتا اور رسول اللہ دوبارہ پوچھتے کہ تم نے کیا کہا(فَمَا كَانَ عُمَرُ يُسْمِعُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 4845 و 7302۔ p. 237quoted source
یہی مومن کا طریقہ ہے۔ مومن بے خبری میں خدا و رسول کی آواز پر اپنی آواز بلند کر سکتا ہے۔ مگر جیسے ہی اس کو بتایا جائے وہ فوراً اپنی آواز پست کر لیتا ہے۔ وہ اپنی آواز کو خدا و رسول کی آواز کے مقابلہ میں نیچا کر لیتا ہے۔ p. 237
یہ صرف زمانۂ رسول کی بات نہیں۔ آج بھی اہل ایمان سے یہی مطلوب ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے براہ راست رسولِ خدا کے ذریعہ اس کو متنبہ کیا جاتا تھا۔ آج قرآن و حدیث کے حوالے سے کوئی دوسرا متنبہ کرنے والا اس کو متنبہ کرے گا۔ آج بھی جب کسی کے سامنے خدا و رسول کا حکم بیان کیا جائے تو اس کو اپنی آواز اسی طرح پست کر لینا چاہیے جس طرح دورِاول کے اہل ایمان نے اس کے مقابلہ میں اپنی آواز کو پست کر لیا تھا۔ p. 237