Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
فطرت پر اعتماد p. 363
پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو بار بار یہ تجربہ ہو رہا تھا کہ لوگ آپ کے ساتھ برے طریقے سے پیش آتے ہیں۔ اشتعال انگیز کلمات کہنا، پتھر مارنا، راستہ میں رکاوٹ ڈالنا، وغیرہ۔ اس وقت قرآن میں حکم دیا گیا کہ :تم برائی کا جواب بھلائی سے دو۔ پھر تم دیکھو گے کہ جو تمہارا دشمن تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن گیا ہے۔(فصلت،41:34) p. 363original + quote
اس ہدایت میں ایک اہم حقیقت بتائی گئی ہے وہ یہ کہ کوئی انسان بظاہر مخالف اور دشمن کیوں نہ ہو اس کے اندر خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت بہرحال موجود رہتی ہے۔ p. 364
فطرت ہمیشہ حق پسند ہوتی ہے۔ اس طرح گویا ہر ظاہری دشمن کے اندر تمہارا ایک مخفی دوست موجود رہتا ہے۔ اگر تم حق کے داعی ہو تو پیشگی طور پر یہ یقین کر لو کہ تمہاری دعوت کا ایک مثنٰی (counterpart) یقینا فریق ثانی کے سینہ میں موجود ہوگا۔ p. 364
مخالف انسان کے اندر اس موافق انسان کو پانے کی یقینی تدبیر یہ ہے کہ تم اس کے برے سلوک کے جواب میں اپنی طرف سے اچھا سلوک کرو۔ تمہارا اچھا سلوک اس کے ظاہری پردے کو ہٹا دے گا۔ اور پھر اندر سے تمہارا ایک دوست انسان نکل آئے گا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ دور اول میں ہزاروں لوگ صرف اسی اصول پر عمل کرنے کے نتیجہ میں اسلام میں داخل ہوئے۔ مثلاً ایک مشرک نے آپ کو تنہا پا کر آپ کے اوپر تلوار اٹھائی۔ مگر اس پر قابو پانے کے بعد آپ نے اس کو معاف کر دیا (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 9112)۔ اسی وقت اس نے اسلام قبول کر لیا۔ وغیرہ۔ دور اول میں اس طرح کے واقعات کثرت سے پیش آئے جن کو تاریخ کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ p. 364original + quote