Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
عسر میں یسر p. 361
پیغمبر اسلام اور آپ کے ابتدائی اصحاب نے مکہ میں توحید کی دعوت دینا شروع کیا تو وہاں کے لوگوں کی طرف سے سخت ردعمل پیش آیا۔ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگا کہ مکہ کی سرزمین اسلام کے لیے صرف مشکلات و مصائب کی سرزمین ہے۔ اس وقت قرآن میں یہ رہنما آیت اتری کہ پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے، مشکل کے ساتھ آسانی ہے(فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً ۔إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً)94:5-6۔ p. 361original + quote
اس سے پیغمبر کے فاتحانہ طریقہ کار کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ وہ کبھی بھی صرف مشکلوں کی آماجگاہ نہ بنے۔ یہاں ہمیشہ مشکل کے ساتھ عین اسی وقت آسانی بھی ضرور پائی جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جہاں بظاہر ڈس ایڈوانٹج ہو وہیں عین اسی کے ساتھ ایڈوانٹج کی صورتیں بھی ضرور موجود ہو۔ p. 362
’عسر میں یسر‘ کی مثال یہ ہے کہ مکہ میں اگر ابو جہل جیسے منکر تھے تو وہیں عمر جیسے اعتراف کرنے والے بھی موجود تھے۔ اس وقت اگر کعبہ سے بتوں کو نکالنا مشکل تھا تو عین اسی وقت یہ ممکن تھا کہ لوگوں کے د لوں سے غیر اللہ کی پرستش کا جذبہ نکالا جائے۔ اسی طرح دور اول میں اہل اسلام کو عرب میں جو مشکلیں پیش آئیں وہ چیلنج بن کر اہل اسلام کی صلاحیتوں کو جگانے کا سبب بن گئیں۔ یہاں تک کہ، مارگولیتھ کے الفاظ میں ان میں کا ایک ایک شخص ہیرو بن گیا۔ p. 362original + quote
سیرت کا کام یہ پہلو بتاتا ہے کہ اہل اسلام جب اپنے آپ کو مسائل کے درمیان پائیں تو ان کو پیشگی طور پر یقین کرنا چاہیے کہ یہاں عین مسائل کے ساتھ ہی مواقع بھی موجود ہیں۔ ان کو چاہیے کہ مسائل کے خلاف فریاد کرنے کے بجائے مواقع کو دریافت کریں اور ان کو استعمال کرکے اپنی تاریخ کو آگے بڑھائیں۔ p. 362