Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اسلامی طریقہ p. 141
قرآن میں جن گھریلو مسائل کا ذکر ہے، ان میں سے ایک نشوز ہے۔ نشوز کا لفظی مطلب ہے سر اٹھانا۔ نشوز کا اظہار مرد ا ور عورت دونوں کی طرف سے ہو سکتا ہے۔ اس فعل کا ظہور مرد کے مقابلہ میں عورت کی طرف سے ہو تو ا س کا مطلب شوہر کی نافرمانی ہوتا ہے۔ اور اگر وہ عورت کے مقابلہ میں مرد کی طرف سے ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ شوہر اپنی بیوی کا حق ادا نہیں کر رہا ہے۔ p. 141original + quote
نشوز کی صورت پیش آنے کے بعد عورت اور مرد کے باہمی تعلقات بگڑ جاتے ہیں۔ جب ایسا ہو جائے تو کیا کیا جائے۔ اس سلسلہ میں قرآن میں ہدایت دی گئی کہ :سب سے پہلے دونوں آپس میں بات چیت کے ذریعہ اصلاح کی کوشش کریں (النساء،4:128) p. 142original + quote
اگر آپس کی بات چیت سے تعلقات درست نہ ہوں تو دوسرے مرحلہ میں یہ کرنا چاہیے کہ دونوں خاندانوں سے ایک ایک شخص کو بطور حکم مقرر کیا جائے۔ دونوں خیرخواہی کے انداز میں کوشش کر کے معاملہ کو داخلی سطح پر طے کرنے کی کوشش کریں (النساء ،4:134 ) اگر یہ دوسری کوشش بھی ناکام ہو جائے تو تیسر مرحلہ میں معاملہ کو بیرونی عدالتی ادارہ (قضا) کے سپرد کر دیا جائے۔ p. 142original + quote
اس تعلیم کا براہ راست تعلق شوہر اور بیوی کے نزاع سے ہے۔ مگر اس سے شریعت کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب دو انسان یا دو گروہ کے درمیان کوئی جھگڑے کی صورت پیدا ہو تو اس وقت جھگڑے کو حل کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ p. 142
اس طریق عمل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ معاملہ کو محدود دائرہ میں رکھ کر اسے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اولاً یہ کوشش ہونی چاہیے کہ جن چند آدمیوں کے درمیان مسئلہ پیدا ہوا ہے، انھیں کے درمیان اس کو باقی رکھا جائے اور اس کے دائرہ کو آخری حد تک محدود رکھتے ہوئے اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ p. 142
اگر بالفرض ساری تدبیروں کے باوجود یہ ابتدائی کوشش ناکام ہو جائے تب بھی معاملہ کو پھیلایا نہ جائے۔ اس کے بعد بھی صرف قریبی افراد کو شریک کر کے اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر قریبی اور متعلق افراد کی کوشش بھی اس کو حل کرنے میں ناکام ثابت ہو تو اس وقت جائز ہے کہ اس کو عدالت یا اور کسی خارجی ادارہ کے سپرد کیا جائے۔ p. 142