Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مثبت اثر p. 253
مشہور نحوی سیبویہ(م177ھ) ایران پیدا ہوا اور بصرہ میں پرورش پائی۔ اس کی نوجوانی کا واقعہ ہے جب کہ وہ حدیث وفقہ کا طالب علم تھا۔ ایک دن وہ حماد بن سلمہ کی مجلس میں تھا۔ انہوں نے ایک حدیث کا املا کراتے ہوئے کہالیس من اصحابی احد الالوشئت لاتخذت علیہ،لیس ابا السدرداء سیبویہ یہ سن کر بول اٹھالیس ابوالدرداء۔ اس پر حماد نے چلا کر کہا سیبویہ تم غلطی پر ہو۔ یہ استثناء ہے(اس لیے ابو کے بجائے ابا ہے) سیبویہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے اپنے جی میں کہا کہ میری نحو کمزور ہے اور مجھے اس میں مہارت پیدا کرنی چاہیے۔ اب اس نے نحو سیکھنا شروع کر دیا۔وہ بصرہ و کوفہ کے نحوی علماء، یونس اور عیسی بن عمر کی مجلسوں میں جانے لگا (طبقات النحویین و اللغویین للزبیدی، صفحہ 66)۔ p. 253original + quote
اس نے اس فن میں اتنی محنت کی کہ بالآخر وہ اس کا امام بن گیا۔ نحو و ادب کے شاذ مسائل میں اس کا کوئی ثانی نہ رہا۔ اس کے بعد اس نے نحو پر ایک ایسی کتاب لکھی جو اپنی اہمیت اور بلندی کی وجہ سے’’الکتاب‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس فن کے علماء کا کہنا ہے کہ فن نحو پر اس کے برابر کی کوئی کتاب آج تک لکھی نہ جا سکی___ جس شخص کی نحو کمزور تھی، وہ تاریخ کا سب سے بڑا نحوی بن گیا۔ p. 254original + quote
ہر شخص کی زندگی میں ایسے واقعات آتے ہیں جب کہ اسے ٹھیس لگتی ہے۔ جب اس کو دوسروں کی طرف سے بے اعترافی کی ذلت اٹھانی پڑتی ہے۔ جب وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیاں بے جگہ ہوگیا ہے۔ p. 254
ایسے مواقع پر اثر لینے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی ان تجربات کے بعد بے ہمتی اور احساس کمتری میں مبتلا ہو جائے۔ ایسے آدمی نے گویا اپنے آپ اپنے کو مار لیا۔ دوسرا شخص وہ ہے جس کے لیے ایسا تجربہ ایک مہمیز بن جائے۔ ایسے آدمی کے لیے اس کا تجربہ اس کی صلاحیتوں کو جگانے کا باعث بن جاتا ہے۔ وہ ازسرنو محنت اور عمل کے رخ پر چل پڑتا ہے، یہاں تک کہ ماضی کا ناکام انسان مستقبل کا کامیاب انسان بن جاتا ہے۔ مثبت تاثر آدمی کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے اور منفی تاثر ناکامی اور بربادی کی طرف۔ p. 254