Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
صبر کی اہمیت p. 148
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صبر پر اللہ تعالٰے نے بے حساب اجر رکھا ہے (39:10) ۔صبر اولوالعزم پیغمبروں کا طریقہ ہے (46:35) ۔حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو صبر سے بہتر اور واسع عطیہ نہیں دیا گیا (مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 1469؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1053۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیاں صبر کے اوپر رکھ دی ہیں۔ اس سلسلہ میں یہاں صرف چند آیتوں کا حوالہ دیا جاتا ہے: p. 148original + quote
صبر پر جنت )الدھر،76:12 ( p. 148
صبر پر فوزو فلاح )المومنون ،(23:111 p. 148
صبر پر غلبہ (الانفال ،8:65) p. 149
صبر پر امامت (السجدہ ،32:24 ) p. 149
صبر پر حفاظت (آل عمران ،3:120) p. 149
صبر کی اتنی زیادہ اہمیت کیوں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ صبر ہی وہ زمین ہے جس پر اعلیٰ انسانی اخلاقیات پرورش پاتی ہیں۔ صبر سے اخلاقی اوصاف پیدا ہوتے ہیں، اور اخلاقی اوصاف تمام انسانی ترقیوں کا واحد زینہ ہیں۔ صبر نہیں تو اخلاقیات نہیں، اخلاقیات نہیں تو کوئی کامیابی نہیں۔ p. 149
انسان فطری طور پر بہتر اخلاق کو پسند کرتا ہے۔ مگر دو چیزیں بار بار آدمی کو اخلاق کے راستہ سے ہٹا دیتی ہیں۔ ایک داخلی خواہشات، اور دوسرے خارجی اشتعال۔ کبھی انسان کا اندرونی نفس اسے بہکاتا ہے، اور کبھی کوئی خارجی واقعہ اس کو مشتعل کر کے بے اخلاق بنا دیتا ہے۔ صبر ان دونوں کمزوریوں کے خلاف چیک ہے۔ صبر و تحمل کی صفت آدمی کو اخلاقی حد کے اندر رکھتی ہے، وہ اس کو اخلاق کی حد سے باہر جانے نہیں دیتی۔ p. 150
صبر انسانیت کی تکمیل ہے۔ صبر کسی انسان کو مکمل انسان بناتا ہے۔ جس آدمی کے اندر صبر کی صفت ہو اس کے اندر تمام صفات ہوں گی، اور جس آدمی کے اندر صبر کی صفت نہ ہو وہ آخرکار تمام صفات کمال سے محروم ہو جائے گا۔ p. 150