Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
جنگ پر بیعت نہیں p. 382
امن ایک ایجابی اہمیت کی چیز ہے۔ جبکہ جنگ کی کوئی ایجابی اہمیت نہیں۔ جنگ تمام تر ایک سلبی نوعیت کی چیز ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ امن انسانی معاشرہ کی ایک مستقل ضرورت ہے۔ جنگ صرف وقتی طور پر بطور دفاع مطلوب ہو سکتی ہے۔ وہ بھی ہمیشہ نہیں بلکہ صرف اس وقت جبکہ امن کی برقراری کی ہر ممکن تدبیر ناکام ہو چکی ہو۔ اور مقابلہ کے سوا کوئی اور صورت سرے سے باقی ہی نہ رہے۔ p. 383
امن و جنگ کا یہ فرق اتنا قطعی ہے کہ ہر مذہب میں اس کو مستقل اصول کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں کسی مذہب کا کوئی استثناء نہیں۔ اسلام جو ایک غیر محرف مذہب ہے، اس میں بھی امن و جنگ کے بارے میں یہی تصور پایا جاتا ہے جو اوپر بیان ہوا۔ p. 383
چنانچہ قرآن میں الصُّلْحُ خَيْرٌ (صلح بہتر ہے) کی آیت نازل ہوئی4:128 ۔ مگر قرآن میں کہیں بھی الحرب خیر(جنگ بہتر ہے) کے مفہوم کی کوئی آیت نازل نہیںہوئی۔ اسی طرح لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ(صحيح البخاري،حدیث نمبر2966)کی حدیث موجود ہے۔ مگر اس کے برعکس اس مفہوم کی کوئی حدیث موجود نہیں کہ لوگو دشمن سے جنگ کے متمنی بنو اور اللہ سے حرب و ضرب کی دعا کرو۔ p. 383original + quote
یہ بات قرآن و حدیث میں نہایت واضح ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا ایک طبقہ ظاہر ہوا ہے جو اپنے آپ کو اسلام پسند کہتا ہے مگر زیادہ صحیح طور پر اس کا نام جنگ پسند ہونا چاہیے۔ کیونکہ انہیں جنگ کی باتیں کرنا بہت پسند ہے۔ انہوں نے اقبال کو اپنا ہیرو بنایا ہے جس نے شاعرانہ تخیل کے تحت کہا تھا p. 383original + quote
خودی ہے تیغ فساں لاالٰہ الا اللہ p. 384
اگرچہ اپنی ذات کے لئے یہ لوگ بھی پوری طرح امن پسند ہیں۔ ان کا اصول ہے جنگ نہ کرو البتہ جنگ کی باتیں خوب کرو۔ وہ خود اپنی ایک انگلی بھی کٹانا نہیں چاہتے مگر اپنی تقریر و تحریر میں سرکٹانے کو خوب گلوریفائی کرتے ہیں۔ اپنی اس دوعملی کے نتیجہ میں وہ خود تو ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔البتہ سادہ لوح مسلمان ان کی باتوں سے متاثر ہو کر مارے جاتے ہیں۔ p. 384
اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ اسلام کی امن پسندی کی نہایت اعلیٰ مثال ہے۔ مگر ان جنگ پسند حضرات نے صلح حدیبیہ میں بھی جنگ کا اصول دریافت کر لیا ہے۔ وہ بیعت الرضوان کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ دیکھو صلح حدیبیہ بھی جنگ کے منصوبہ سے خالی نہیں۔ مگر یہ حوالہ نہایت غلط اور بے بنیاد ہے۔ p. 384original + quote
سیرت اور حدیث کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بیعت الرضوان جنگ کی بیعت نہیں تھی، بلکہ عدم فرار کی بیعت تھی۔ یہ بیعت حدیبیہ کے سفر میں پیش آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ سے سفر کے لئے نکلے تو اس وقت آپ نے اعلان فرمایا تھا کہ ہم جنگ کے لئے نہیں جا رہے ہیں بلکہ عمرہ کے لئے جا رہے ہیں۔ حدیبیہ کے قیام میں بھی آپ نے بتکرار یہ واضح فرمایا کہ ہمار مقصد ہرگز جنگ نہیں ہے۔ بلکہ صرف زیارت کعبہ ہے۔ ایسی حالت میں حدیبیہ پہنچ کر جنگ کی بیعت لینے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ پھر بیعت الرضوان کی حقیقت کیا تھی۔ اس کے سلسلہ میں اس کا مختصر تاریخی پس منظر بیان کرنا ہوگا۔ p. 384
بیعت الرضوان(6ھ) اسلامی تاریخ کا مشہور واقعہ ہے جو حدیبیہ کے ضمن یں پیش آیا۔ یہ سفر اصلاً عمرہ کرنے کے لئے ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روکا۔ اس وقت قریش سے آپ کی صلح کی بات چیت شروع ہوئی۔ اس دوران آپ نے حضرت عثمان بن عفان کو اپنا سفیر بنا کر قریش کے پاس بھیجا تاکہ وہ اہل مکہ کو بتائیں کہ آپ مکہ میں صرف عبادت کے لئے داخل ہونا چاہتے ہیں نہ کہ جنگ اور ٹکراؤ کے لئے۔ p. 384
قریش اس بات پر راضی نہیں ہوئے۔ انہوں نے حضرت عثمان کو اپنے یہاں روک لیا۔ جب آپ کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو مشہور ہوگیا کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا ہے۔ یہ خبر بے حد غیر معمولی تھی۔ چنانچہ اس کو سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چودہ سو اصحاب کو جمع کیا اور ان سے بیعت لی اسی کا نام بیعت الرضوان ہے۔ p. 385
یہ بیعت کس بات پر تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت پر بیعت لی ہے۔ حضرت جابربن عبداللہ، جو خود اس بیعت میں شریک تھے، انہوں نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے موت پر بیعت نہیں لی۔ بلکہ اس بات پر بیعت لی کہ ہم بھاگیں گے نہیں(إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُبَايِعْنَا عَلَى الْمَوْتِ، وَلَكِنْ بَايَعَنَا عَلَى أَلَّا نَفِرَّ) البداية والنهاية،جلد4،صفحہ380۔تمام سیرت نگاروں نے بیعت الرضوان کا یہی مفہوم لیا ہے۔ الفاظ اور سیاق کے مطابق اس کا کوئی اور مفہوم نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ابن قیم نے اپنی مشہور کتاب زادالمعاد میں بیعت الرضوان کے تذکرہ کے تحت یہ الفاظ لکھے ہیں:فَبَايَعُوهُ عَلَى أَلَّا يَفِرُّوا (زاد المعاد،جلد3، صفحہ259)۔ p. 385original + quote
روایات میں آتا ہے کہ اس کے بعد قریش مکہ نے سہیل بن عمرو کو اپنا سفیر بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ سہیل بن عمرو ایک اعتدال پسند آدمی تھے اور بعد کو انہوں نے اسلام بھی قبول کر لیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سہیل کو آتے ہوئے دیکھا تو آپ مطمئن ہوگئے اور فرمایا کہ قریش نے جب سہیل کو گفت و شنید کے لئے بھیجا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صلح چاہتے ہیں (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ316)۔ p. 385original + quote
حدیبیہ کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کامل امن پسندی کا مظاہرہ کیا۔ فریق ثانی کی اشتعال انگیزی کے باوجود آپ مشتعل نہیں ہوئے۔ ٹکراؤ کے ہر موقع سے یک طرفہ طور پر اعراض کرتے رہے۔ مثلاً دوران سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ قریش کا 200 سواروں کا دستہ مکہ سے روانہ ہو کر آپ کی طرف آ رہا ہے۔ آپ کو جب اس کی خبر ملی تو آپ نے اصحاب سے یہ نہیں فرمایا کہ جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ بلکہ آپ نے اپنا راستہ بدل دیا۔ اس طرح قریش کی فوج سے ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔ p. 385
اپنی جماعت کے سب سے زیادہ نرم مزاج آدمی کو اس سفارت کے ساتھ بھیجا کہ ہم صلح کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پھر جب قتل کی خبر ملی اس وقت بھی آپ نے ایسا نہیں کیا کہ خبر ملتے ہی قریش کے اوپر ٹوٹ پڑیں۔ بلکہ اپنے مقام پر ٹھہر کر لوگوں سے صرف اس بات کی بیعت لی کہ ہم یہیں جمے رہیں گے۔ قریش اگر خود سے لڑنے کے لئے آتے ہیں تو مقابلہ کریں گے۔ اور وہ صلح پر راضی ہوتے ہیں تو صلح کر لیں گے۔ خواہ یہ صلح یکطرفہ شرطوں پر کیوں نہ ہو، جیسا کہ آپ نے عملاً کیا۔ بیعت الرضوان کے باوجود صلح کر لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بیعت اصلاً جنگ کے لئے نہ تھی۔ اگر وہ جنگ کے لئے ہوتی تو ناممکن تھا کہ اس کے بعد اپنے دشمن سے یکطرفہ شرطوں پر صلح کر لیں۔ p. 386
حضرت عثمان بن عفان جب مکہ گئے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کی حیثیت سے وہاں گئے تھے۔ بین الاقوامی رواج کے مطابق سفیر کاقتل اعلان جنگ کے ہم معنی ہوتا ہے۔ جب یہ خبر ملی کہ قریش نے آپ کے سفیر کو قتل کر دیا ہے تو قدرتی طور پر آپ نے اس کا مطلب یہ سمجھا کہ قریش اب آخری طور پر آمادہ جنگ ہو چکے ہیں، وہ کس حال میں صلح اور امن کا معاملہ کرنے پر راضی نہیں ہیں۔ اس خبر نے وقتی طور پر صورت حال کو یکسر بدل دیا۔ p. 386
ابتدائی صورتحال کے مطابق آپ کے سامنے صلح یا جنگ میں انتخاب(چوائس) کا مسئلہ تھا۔ اس وقت آپ نے جنگ کو چھوڑ کر صلح کا انتخاب فرمایا تھا۔ مگر قتل سفیر کی خبر نے ظاہر کیا کہ اب فرار یا جنگ میں سے کسی ایک صورت کے انتخاب(چوائس) کا مسئلہ درپیش ہے۔ یعنی قریش کسی حال میں بھی صلح پر راضی نہیں ہیں۔ وہ ہر حال میں جنگ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت آپ نے اپنے اصحاب سے عدم فرار اور بصورت جارحیت دفاع کی بیعت لی۔ مگر جب معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی تو پھر دوبارہ آپ جنگ کو چھوڑ کر صلح پر راضی ہوگئے۔ حالانکہ یہ صلح آپ کو دشمن کی یکطرفہ شرطوں پر کرنی پڑی۔ p. 386
بیعت الرضوان کا پیغام یہ ہے کہ تمہارے لئے اگر انتخاب(چوائس) فرار اور جنگ کے درمیان ہو تو فرار کو چھوڑ کر جنگ کا طریقہ اختیار کرو۔ اور اگر تمہارے لئے انتخاب(choice) صلح اور جنگ کے درمیان ہو تو جنگ کو چھوڑ کر صلح کا طریقہ اختیار کرو، خواہ یہ صلح فریق ثانی کی یکطرفہ شرائط پر ہی کیوں نہ ہو۔ مزید یہ کہ فرار کے مقابلہ میں عدم فرار کو اختیار کرنے کا حکم بھی مشروط حکم ہے نہ کہ مطلق حکم۔ کیونکہ حدیبیہ(6ھ) میں آپ نے فرار کے مقابلہ میں عدم فرار کا فیصلہ فرمایا۔ مگر اس سے پہلے مکہ(1ھ) میں اسی طرح کی صورتحال میں آپ نے وہاں سے ہجرت فرمائی۔ p. 386original + quote
صبر کی اہمیت p. 387
حدیبیہ دراصل عدم ٹکراؤ کی پالیسی کا دوسرا نام ہے۔ اسی پالیسی کا نام صبر ہے۔ اسلام میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو صبر سے زیادہ بہتر اور کشادہ عطیہ نہیں دیا گیا(وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ) صحيح البخاري،حدیث نمبر1481۔صبر کی اہمیت اور افضلیت کے بارے میں اس قسم کے بہت سے اقوال رسول حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر مسند احمد میں روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں تمارے لیے صبر سے زیادہ کشادہ رزق اور کوئی نہیں پاتا(وَمَا أَجِدُ لَكُمْ رِزْقًا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ) مسند أحمد،حدیث نمبر 11091۔ p. 387original + quote
ان حدیثوں میں صبر کا رزق اور عطیہ کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر کوی سلبی چیز نہیں ہے بلکہ وہ ایجابی چیز ہے صبر محرومی نہیں ہے بلکہ یافت ہے۔ صبر بے عملی نہیں ہے بلکہ وہ سب سے بڑا عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر پیغمبرانہ عمل (prophetic activism) یا اسلامی عمل(IsIamic activism) کی اصل بنیاد ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا طریق کار تمام تر صبر کے اصول پر مبنی ہے۔ p. 387original + quote
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جو قرآن دیا گیا وہ پورا کا پورا کتاب صبر ہے۔ جن آیتوں میں صبر کی براہ راست تعلیم دی گئی ہے، ان کا صبر کی آیت ہونا واضح ہے۔ لیکن غور کیجئے تو بقیہ قرآنی آیتیں بھی بالواسطہ طور پر صبر ہی کی آیتیں ہیں۔ مثلاً اقرأ باسم ربک الذی (96:1)عین صبر کی آیت ہے۔ کیونکہ ماحول کی اشتعال انگیزیوں پر صبر کے بغیر اقرأ کا عمل نہیں کیا جا سکتا۔ الحمدللہ رب العالمین میں صبر کا لفظ نہیں مگر وہ عین صبر کی آیت ہے۔ کیونکہ نقصان اور محرومی پر جب تک صبر نہ کیا جائے حقیقی کلمۂ حمد آدمی کی زبان سے نہیں نکل سکتا۔( قُولا لَهُ قَوْلاً لَيِّناً) صبر کی آیت ہے 20:44 ۔ کیونکہ سرکش مخاطب کی دل آزار باتوں کو جب تک برداشت نہ کیا جائے اس سے نرم انداز میں گفتگو نہیں کی جا سکتی۔ وغیرہ وغیرہ۔ p. 387original + quote
اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز یہ ہے کہ ممکن سے اپنے عمل کا آغاز کیا جائے، اور ناکامی کا واحد سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اپنی قوت اور طاقت کو ناممکن کے حصول میں لگا دیا جائے۔ p. 387
اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ متشددانہ طریق کار آدمی کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے اور پرامن طریق کار کامیابی کی طرف۔ متشددانہ طریق کار ہمیشہ بے صبری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں پرامن طریق کار وہ لوگ اختیار کرتے ہیں جو نزاعی معاملات میں صبر و تحمل کا ثبوت نہ دے سکیں۔ امن کی طاقت اس دنیا میں سب سے بڑی طاقت ہے، اور صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ امن کی طاقت کو کامیاب طور پر استعمال کر سکے۔ p. 388