Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
بے مسئلہ p. 218
مومن ایک بے مسئلہ انسان ہوتا ہے۔ وہ ہر حال میں اور ہر ماحول میں مسٹر نو پرابلم بن کر رہتا ہے۔ اِس معاملہ میں اس کی حساسیت اتنی بڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ معمولی دجہ میں بھی کسی کے لیے مسئلہ پیدا کرنا پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا یہ حال تھا کہ ایک شخص گھوڑے پر سوار ہوتا اور اس کا کوڑا زمین پر گر پڑتا تو وہ گھوڑے سے اتر کر اپنا کوڑا اٹھاتا تھا (سنن ابی داؤد ، حدیث نمبر 1642) ۔ p. 218original + quote
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ سب سے اچھا مسلم وہ ہے جس کے شر سے لوگ مامون رہیں (وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ) سنن الترمذي،حدیث نمبر 2263۔ ایک اور روایت میں ہے کہ مومن وہ ہے جو اللہ سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے (يَتَّقِي اللهَ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ) صحيح البخاري،حدیث نمبر2786۔ p. 218hadith
البخاری (کتاب الادب) میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مسلم پر صدقہ ہے۔ یعنی اس کو دینے والا بننا چاہیے۔ پوچھا گیا کہ اگر کسی کے پاس کچھ نہ ہو۔ آپ نے فرمایا کہ وہ محنت کر کے کمائے اور پھر اس میں سے دے۔ پوچھا گیا کہ اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ زبان سے اچھا کلمہ کہے۔ پوچھا گیا کہ اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے تو آپ نے فرمایا: فليمسك عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ۔یعنی وہ اپنے شر کو دوسروں سے روکے۔ کیوں کہ یہ بھی ایک عطیہ ہے (صحيح البخاري،حدیث نمبر 5676)۔ p. 218original + quote
ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ کامل ایمان والا مومن وہ ہے جو مجاہد بنے اور اللہ کے راستہ میں اپنے جان و مال کو خرچ کرے۔ اور اس کے بعد وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرے اور لوگ اس کے شر سے بچے ہوئے ہوں (قَدْ كُفِيَ النَّاسُ شَرَّهُ) سنن أبي داود،حدیث نمبر 2485۔ان کا خلاصہ یہ ہے کہ سماج میں رہنے والے ایک مسلمان کے لیے کردار کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو نفع پہنچائے۔ اس کے بعد اسلامی کردار کا کم سے کم معیار یہ ہے کہ وہ پوری طرح بے ضرر بنا ہوا ہو، وہ کسی کے لیے کسی بھی قسم کا کوئی چھوٹا یا بڑا مسئلہ پیدا نہ کرے۔یہی اخلاقی صفت کسی کے مومن و مسلم ہونے کی اصل پہچان ہے۔ p. 219original + quote