Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
حق کی ادائیگی p. 98
البخاری میں روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تین شخص کے خلاف قیامت میں مدعی بنوں گا۔ ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس نے آدمی کو اپنے یہاں مزدور رکھا اور ا س سے پورا کام لیا مگر اس نے اس کی مزدوری نہیں دی (رَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ ) صحيح البخاري،حدیث نمبر 2227۔ p. 98hadith
ابن ماجہ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ، قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ (مزدور کو اس کی مزدوری دو، اس سے پہلے کہ اس کا پسینہ خشک ہو) سنن ابن ماجه ،حدیث نمبر 2443 ۔موجودہ دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کام لیتا ہے۔ ایسے ہر معاملہ میں اسلام کا حکم یہ ہے کہ پوری اجرت دو، اور کام ختم ہونے کے بعد فوراً اسے ادا کرو۔ کام کروانے کے بعد مزدور سے یہ کہنا کہ اگلے دن آکر اجرت لے لینا، انتہائی غیر انسانی فعل ہے۔ اور ایسے پست فعل سے اسلام میں نہایت شدت کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔ p. 98original + quote
کام کروانے والے کی ضرورت اگر یہ ہے کہ اس کا کام ہو جائے تو کام کرنے والے کی ضرورت یہ ہے کہ اس کی محنت کا معاوضہ اسے بروقت مل جائے۔ یہ ایک دوطرفہ تقاضا ہے۔ اور کام کرنے والے نے جب کام انجام دے دیا تو اب دوسرے شخص پر لازم ہو گیا کہ وہ اس کا مقرر معاوضہ ادا کرنے میں کسی قسم کی کوئی قابل شکایت بات نہ کرے۔ p. 98
جہاں طے شدہ مزدوری کا معاملہ نہ ہو وہاں بھی اسلام کا تقاضا ہے کہ کسی نہ کسی صورت میں اس کا بدلہ پورا کیا جائے۔ اگر مادی بدلہ کا موقع نہ ہو تو اس کا شکریہ ادا کیا جائے۔ کھلے دل سے اس کی کارگزاری کا اعتراف کیا جائے۔ اچھے الفاظ کے ساتھ لوگوں کے سامنے اس کا ذکر کیا جائے۔ اس کے حق میں اللہ تعالیٰ سے نیک دعا کی جائے۔ p. 99
محنت کا فوراً معاوضہ ادا کرنے سے سماج میں باہمی اعتماد بڑھتا ہے، اور اگر اس کے برعکس عمل کیا جائے تو پورا سماج بے اعتمادی اور بدگمانی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ p. 99