Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
کرنے کا کام p. 273
امیر تبلیغ مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ تھا کہ وہ کسی جماعت کو دین کے راستہ میں بھیجتے تو روانگی کے وقت اس کو یہ نصیحت کرتے p. 273
نیچی نظر، دل میں فکر، زبان پر ذکر، p. 273
قدم ملا کر چلو گے تو منزلیں آسان ہو جائیں گی۔ p. 273
اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ___ سنجیدگی، احساس ذمہ داری، اللہ کی عظمت کا اقرار اور اتحاد، یہ چیزیں جن لوگوں کے اندر پیدا ہو جائیں، وہ ضرورکامیاب ہوں گے۔ p. 274
یہ انتہائی اہم بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امت کے فرد فرد میں یہ شعور جگانا اور ایک ایک شخص کے اندر یہ جذبہ بھرنا یہی اصل کام ہے۔ اسی میں آخرت کی بھلائی ہے اور اسی میں دنیا کی بھلائی بھی۔ p. 274
قوم یا خارجی نظام کا بذات خود کوئی مستقل وجود نہیں۔ اصلی اور مستقل وجود صرف فرد کا ہے۔ فرد کے مجموعہ کا نام قوم ہے۔ اور فرد کی کارکردگی کا نام نظام۔ اس لیے فرد کو بنانا قوم کو بنانا ہے اور فرد کی اصلاح گویا پورے نظام کی اصلاح ہے۔ p. 274
اس حقیقت کو سامنے رکھیے تو وہی کام کام ہے جو فرد کو نشانہ بنا کر کیا جائے۔ جس کام میں نظام یا حکومت کو نشانہ بنایا گیا ہو وہ صرف ایک ہنگامہ ہے۔ وہ باعتبار حقیقت کوئی کام نہیں۔ جو چیز آپ اجتماع کی سطح پر چاہتے ہیں اس کو آپ اسی وقت حاصل کر سکتے ہیں جب کہ آپ اس کو فرد کی سطح پر حاصل کر چکے ہوں۔ فرد کی اصلاح کے بغیر اصلاح معاشرہ اور انقلاب حکومت کا نعرہ لگانا یا تو لیڈری ہے یا دیوانگی۔ اس کے سوا اس کی کوئی تیسری توجیہہ نہیں کی جا سکتی۔ p. 274
فرد فرد کے اندر وہ گہرا ایمان پیدا کیجئے کہ تواضع سے اس کی نظریں جھک جائیں۔ آخرت کی جواب دہی کا احساس اس کے سینہ میں تڑپ بن کر داخل ہو جائے۔ اللہ کی عظمت اس کے اوپر اتنی چھائے کہ وہ اس کو ہر وقت یاد کرنے والا بن جائے۔ اس کی بے نفسی اس کو لوگوں کے ساتھ متحد کر دے۔ افراد کے اندر اگر یہ اوصاف آ جائیں تو اس کے بعد بقیہ چیزیں اسی طرح لازمی طور پر آئیں گی جس طرح ایک زندہ درخت کے اوپر پھل۔ p. 275