Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
حسن معاشرت p. 302
قرآن کی سورۃ نمبر49 میں مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایک جامع ہدایت دی گئی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: مسلمان سب بھائی بھائی ہیں۔ پس اپنے بھائیوں کے درمیان اصلاح کراؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ اے ایمان والو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسروں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے۔ اور جو باز نہ آئیں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ اے ایمان والوں، بہت سے گمانوں سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ اور ٹوہ میں نہ لگو۔ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے، اس کو تم خود ناگوار سمجھتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے(49:10-12)۔ p. 302unverified
ان قرآنی آیتوں کا خطاب مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں دونوں سے ہے۔ دونوں ہی کی فلاح کا طریقہ وہ ہے جو ان آیتوں میں بتایا گیا ہے۔ p. 302
مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں کس طرح رہیں، اس کا جواب ایک لفظ میں یہ ہے کہ وہ اس طرح رہیں جس طرح بھائی اور بہن آپس میں رہتے ہیں۔ بھائی اور بہن خونی رشتہ کی بنا پر باہم محبت کے ساتھ مل کر رہتے ہیں۔ اسی طرح دینی بھائیوں اور دینی بہنوں کو بھی محبت اور خیر خواہی کے ساتھ باہم مل کر رہنا چاہیے۔ p. 302
کوئی عورت یا مرد دوسرے کا مذاق کیوں اڑاتا ہے، اس لیے کہ وہ دوسرے کی بڑائی کو ماننا نہیں چاہتا۔ ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی عورت یا مرد کو جب کسی دوسرے کی کوئی نازک بات مل جائے تو وہ اس کو خوب نمایاں کرتا ہے تاکہ اس طرح دوسرے کو چھوٹا ثابت کرے اور اپنی بڑائی کی تسکین حاصل کر سکے۔ p. 303
ایسے عورت اور مرد دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ دوسروں پر عیب لگاتے ہیں، وہ دوسروں کو برے نام سے یاد کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنے اس جذبہ کو تسکین حاصل کریں کہ وہ دوسروں سے بڑے ہیں۔ p. 303
مگر اچھا اور برا، یا بڑا اور چھوٹا ہونے کا معیار وہ نہیں ہے جو کوئی عورت یا مرد بطور خود مقرر کر لے۔ اچھا دراصل وہ ہے جو خدا کی نظر میں اچھا ہو، اور برا وہ ہے جو خدا کی نظر میں برا ٹھہرے۔ p. 303
اگر کسی عورت یا کسی مرد کے اندر فی الواقع اس کا احساس پیدا ہو جائے تو اس کے بعد اس سے بڑائی کا جذبہ چھن جائے گا۔ دوسروں کا مذاق اڑانا، دوسروں کو طعنہ دینا، دوسروں پر عیب لگانا، دوسروں کو برے لقب سے یاد کرنا، اس قسم کی تمام چیزیں ان کو بے معنی معلوم ہونے لگیں گی۔ کیونکہ وہ جانیں گے کہ لوگوں کے درجہ اور مرتبہ کا اصل فیصلہ خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔ ایسی حالت میں اگر میں کسی کو حقیر سمجھوں اور آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ہوگا۔ p. 303
ایک عورت یا مرد کو کسی کے خلاف بدگمانی ہو جائے تو اس کی ہر بات اس کو غلط معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کے بارے میں اس کا ذہن منفی رخ پر چل پڑتا ہے۔ وہ اس کی خوبیوں سے زیادہ اس کے نقائص تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس کی برائیوں کو بیان کرکے اسے بے عزت کرنا اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے، یہ طریقہ انتہائی حد تک ایمان اور تقویٰ کے خلاف ہے۔ p. 303
یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر معاشرتی خرابیوں کی جڑ بدگمانی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر ایک اس معاملہ میں چوکنا رہے، وہ کسی بھی حال میں بدگمانی کو اپنے ذہن میں داخل نہ ہونے دے۔ p. 304
آپ کو کسی کے بارے میں الٹی خبر ملے تو اس کی تحقیق کیجئے۔ آپ کو کسی سے بدگمانی ہو جائے تو اس سے مل کر اس کے بارے میں اس سے گفتگو کیجئے۔ یہ سخت غیر اسلامی اور غیر اخلاقی بات ہے کہ کسی کی غیر موجودگی میں اس کو برا کہا جائے جب کہ وہ اپنی صفائی دینے کے لیے وہاں موجود نہ ہو۔ وقتی طور پر کبھی کسی عورت یا مرد سے اس قسم کی ایک غلطی ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر وہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں تو وہ اپنی غلطی پر ڈھیٹ نہ ہوں گے۔ ان کا خوف خدا ان کو فوراً اپنی غلطی پر متنبہ کر دے گا۔ پھر وہ اپنی غلط روش کو چھوڑ دیں گے اور اللہ سے معافی کے طالب بن جائیں گے۔ p. 304