Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
آگ کا ٹکڑا p. 182
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضي الله عنها، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِي نَحْوَ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 7169؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1713)۔ یعنی، حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک انسان ہوں اور تم اپنے مقدمات میرے پاس لاتے ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے شخص کے مقابلہ میں زیادہ اچھے انداز میں اپنا دعویٰ پیش کرے اور میں اپنے سننے کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ تو میں نے جس شخص کو اس کے بھائی کا حق دیا، اس کو میں نے آگ کا ایک ٹکڑا دیا۔ p. 182original + quote
یہ حدیث بتاتی ہے کہ ایک جائداد ہر حال میں اسی کی ہے جو اس کا واقعی حق دار ہے حتیٰ کہ اگر خود پیغمبر کسی وجہ سے غیر حق دار کے لیے اس کا فیصلہ کر دیں تب بھی وہ غیر حق دار کی نہیں ہو سکتی۔ پیغمبر کے فیصلہ کے باوجود وہ آخرت میں اس کے لیے آگ کا ٹکڑا ثابت ہو گی۔ p. 183original + quote
موجودہ زمانہ میں ناجائز قبضہ بہت عام ہے۔ موجودہ بگڑے ہوئے نظام نے لوگوں کو موقع دیا ہے کہ وہ رشوت اور دھاندلی کے زور پر اپنی ناجائز خواہشات پوری کر سکیں۔ چنانچہ آج ہر بستی اور ہر شہر میں ایسے لوگ ملیں گے جنھوں نے غلط کارروائی کر کے کسی دوسرے شخص کی زمین یا عمارت پر قبضہ کر لیا ہے۔ p. 183
ایسے لوگوں کے لیے یہ حدیث بہت زیادہ ڈرانے والی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب رسول خدا کے فیصلہ کے باوجود ایک جائداد کسی غیر حقدار کی نہیں ہوتی تو وہ ان لوگوں کی کیسے ہو جائے گی جو فرضی رجسٹری اور جھوٹے سرکاری کاغذات کی بنیاد پر دوسرے کی جائداد پر قبضہ کر بیٹھ گیے ہوں۔ p. 183original + quote
دنیا میں آدمی غیر کی عمارت پر قابض ہو کر خوش ہوتا ہے۔ آخرت میں اس کا کیا حال ہو گا جب اس پوری عمارت کو آگ کی عمارت بنا کر اس کے اندر اسے بند کر دیا جائے۔ p. 183