Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
درس حدیث p. 178
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کے بارے میں صحابہ کے اقوال کثرت سے حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ روایت ہے جو صحیح البخاری میں آئی ہے۔ امام بخاری نے اس کو اپنی کتاب میں معمولی فرق کے ساتھ چار مقام پر نقل کیا ہے۔ کتاب المناقب میں ، کتاب الادب میں اور کتاب الحدود میں دو باب کے تحت۔ کتاب الادب کے الفاظ یہ ہیں : عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها أَنَّهَا قَالَتْ: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ(صحيح البخاري،حدیث نمبر 6126)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو معاملہ کے درمیان کسی ایک معاملہ کو اختیار کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان معاملہ کو لے لیتے تھے جب تک وہ گناہ نہ ہو۔ پس اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے۔ p. 178original + quote
یہ حدیث امام مسلم نے اپنی صحیح (حدیث نمبر 2327)میں اور امام طبرانی نے الاوسط (حدیث نمبر 2918)میں نقل کی ہے۔ وہاں اِلاّ اخذَ ایسرھما کی جگہ اِلاّ اختار ایسرھما کے الفا ظ ہیں ۔یعنی آپ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اسہل کو اختیار کرنے کا تھا نہ کہ اشدّ کو اختیار کرنے کا۔ p. 178original + quote
طریق نبوت کے بارے میں حضرت عائشہؓ کا یہ بیان بے حد اہم ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کی نہایت جامع تشریح ہے۔ وہ اسلام کی مستقل پالیسی کو بتاتا ہے۔ یہ پالیسی ایک لفظ میں ہے___ ممکن سے آغاز۔ p. 179original + quote
آسان اور مشکل کا مطلب سادہ طور پر محض آسان اور مشکل نہیں ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ دو راستوں سے وہ راستہ اختیار کرنا جو کھلا ہوا ہو، اس مقام پر سر نہ ٹکرانا جہاں راستہ بند ہو۔ اور آگے بڑھنے کے لیے ٹکراؤ ضروری ہو گیا ہو۔ p. 179
اس پالیسی کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کو فوراً اپنے عمل کے لیے مثبت آغاز مل جاتا ہے۔ اس کا ہر قدم منزل کی طرف بڑھنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس کی قوتیں تخریب کے بجائے تعمیر پر صرف ہونے لگتی ہیں۔ p. 179