Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اخلاق کا کرشمہ p. 181
ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں قصۃ غورث بن الحارث کے عنوان کے تحت ایک واقعہ تفصیل کے ساتھ لکھا ہے، اس کا خلاصہ ہے p. 181other source
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب غزوہ ذات الرقاع(4 ھ) سے واپس لوٹ رہے تھے۔ ایک جگہ لوگوں نے پڑاؤ ڈالا، رسول اللہؐ بھی ایک درخت کے نیچے لیٹ گئے۔ اتنے میں دشمن قوم کا ایک آدمی غورث بن الحارث آیا۔ آپ کی تلوار درخت کی ایک شاخ سے لٹکی ہوئی تھی۔ اس نے تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور کہا مَن یَمنعُک مِنّی یا محمّد (اے محمد، آپ کو مجھ سے کون بچائے گا) آپ نے فرمایا کہ اللہ۔ اس نے کئی بار اپنا جملہ کہا۔ ہر بار آپ نے جواب دیا کہ اللہ۔ آپ کے اس جواب سے اس کے اوپر ہیبت طاری ہوئی اور اس نے تلوار زمین پر رکھ دی۔ p. 181hadith
اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار اٹھا لی اور اس سے وہی جملہ فرمایا کہ تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا۔ اس نے کہا :کن خیر آخذ (بہتر پکڑنے والے بنو) اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ملامت نہیں کی۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم خود تو برے آخذ ثابت ہوئے اور مجھ کو اچھا آخذ بننے کے لیے کہہ رہے ہو۔ آپ نے اس کو معاف کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا۔ p. 181original + quote
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس کو ملامت کرتے یا اس کو سزا دیتے تو اس کے اندر انتقال کا جذبہ بھڑکتا۔ مگر جب آپ نے اس کو سرزنش کیے بغیر چھوڑ دیا تو اس کا ضمیر جاگ اٹھا۔ وہ آپ کی شرافت اور آپ کے اخلاقی کمال کا مبلغ بن گیا۔ اس نے قبیلہ میں واپس جا کر یہ کہنا شروع کیا: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ (البدایہ والنہایہ لابن کثیر، جلد4، صفحہ 270-271)۔میں اس شخص کے یہاں سے واپس آ رہا ہوں جو تمام لوگوں میں سب سے بہتر ہے۔ p. 182original + quote
انتقام کا طریقہ صرف مسئلہ کو بڑھاتا ہے۔ جب کہ معافی کا طریقہ مسئلہ کو آخری حد تک ختم کر دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ اس کا مزید فائدہ یہ ہے کہ وہ معاف کرنے والے کی عظمت کا ایک ایسا مظاہرہ ہے جس کے بعد جانی دشمن بھی وفادار دوست بن جائے۔ p. 182