Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
قناعت p. 82
انسان کی ایک اہم اخلاقی صفت وہ ہے جس کو قناعت کہا جاتا ہے۔ بہتر سماج کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ افراد کے اندر قناعت کا مزاج موجود ہو۔ جس سماج کے افراد میں قناعت کا مزاج پایا جائے اس سماج میں ایک دوسرے کے درمیان محبت کی فضا ہو گی۔ اور جس سماج کے افراد میں یہ مزاج نہ پایا جائے وہ یقینی طور پر باہمی محبت کی فضا سے خالی ہو گا۔ p. 83
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے فلاح پائی جس نے اسلام کو قبول کیا اور جس کو بقدر ضرورت رزق دیا گیا۔ اور وہ اللہ کے دیے پر قانع ہو گیا (قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافًا، وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ)صحیح مسلم، حدیث نمبر 1054۔ p. 83hadith
موجودہ دنیا میں کسی انسان کی سب سے بڑی خوش نصیبی یہ ہے کہ وہ اپنے رب کا شاکر بندہ بن کر رہ سکے، اور حقیقی معنوں میں شاکر بندہ وہی بن سکتا ہے جس میں قناعت کا مزاج پایا جائے۔ چنانچہ حدیث (ابن ماجہ، کتاب الزہد) میں یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَكُنْ قَنِعًا، تَكُنْ أَشْكَرَ النَّاسِ (تم قانع بن جاؤ اور پھر تم سب سے زیادہ شکر کرنے والے بن جاؤ گے) سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 4217۔ p. 83original + quote
قناعت کی روشن اختیار کرنے سے آدمی کو قلبی سکون حاصل ہوتا ہے۔ اور قناعت نہ کرنے سے حرص کا مزاج بنتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر حرص کا مزاج آ جائے وہ کبھی اور کسی حال میں مطمئن نہیں ہو سکتا۔ وہ ہر حال میں کمی کا شکوہ کرتا رہے گا۔ p. 83
قناعت آدمی کو ذہنی اطمینان دیتی ہے اور حرص سے آدمی کے اندر ذہنی پراگندگی پیدا ہوتی ہے۔ قناعت فکری بلندی کی طرف لے جاتی ہے اور حرص فکری پستی کی طرف۔ قناعت آدمی کو دوسروں سے محبت کرنے والا بناتی ہے اور حرص دوسروں سے نفرت کرنے والا۔ قناعت روحانی ترقی کا ذریعہ ہے اور حرص روحانی پستی کا ذریعہ۔ p. 84
قناعت کا مزاج آدمی کو ا س قابل بناتا ہے کہ وہ ادنی باتوں سے اوپر اٹھ کر اعلیٰ حقیقتوں میں جی سکے۔ وہ سادہ زندگی اور اونچی سوچ والا انسان بن جائے۔ p. 84