Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
نرمی کا انداز p. 81
اسلام کی تعلیمات کو اپنانے کے بعد آدمی کے اندر جو مزاج بنتا ہے وہ نرمی اور رفق کا مزاج ہے۔ اسلام میں وہ اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ خدا بڑا ہے (اللہ اکبر) یہ دریافت اس کو بتاتی ہے کہ بڑائی تو صرف خدا کے لیے ہے، میرے لیے بڑائی نہیں۔ اس طرح اپنے آپ اس کے اندر انکسار اور فروتنی کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ p. 81original + quote
تاہم نرمی کے سلوک پر قائم رہنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی کے اندر بے پناہ حد تک برداشت کا مزاج ہو۔ موجودہ دنیا میں بار بار دوسروں کی طرف سے ناخوش گواری کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس لیے نرمی کے سلوک پر وہی شخص قائم رہ سکتا ہے جو ردعمل کی نفسیات سے اپنے آپ کو بچا سکے۔ اسی لیے قرآن میں خدا پرست انسان کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ___ غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے (وَالْكاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعافِينَ عَنِ النَّاسِ)3:134۔ p. 82original + quote
بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نرم ہے اور ہر معاملہ میں نرمی کو پسند کرتا ہے : إِنَّ اللهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6927)۔ p. 82hadith
اسی طرح آپ نے فرمایا: إِنَّ اللهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ، وَمَا لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2593)۔ یعنی اللہ نرم ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے۔ وہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا اور نہ کسی دوسری چیز پر۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ: مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ كُلَّهُ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4809)۔ یعنی جو شخص نرمی سے محروم ہو وہ تمام بھلائیوں سے محروم ہو جائے گا۔ p. 82original + quote
اگر آپ لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے اکڑ سے کام لیں تو آپ لوگوں کی اَنا کو جگائیں گے۔ اس طرح مسئلہ بڑھے گا۔ پہلے اگر آپ کو کڑوے بول سے سابقہ پیش آیا تھا تو اب آپ لوگوں کے پتھر کو سہنے کے لیے مجبور کر دیے جائیں گے۔ اس کے بجائے اگر آپ معاملات میں نرمی والا طریقہ اختیار کریں تو آپ کا یہ سلوک لوگوں کے ضمیر کو جگائے گا۔ اب معاملہ برعکس ہو گا۔ پہلے اگر کوئی شخص آپ کا مخالف بنا ہوا تھا تو اب وہ مخالفت کو بھول کر آپ کا قریبی دوست بن جائے گا۔ نرمی کامیاب انسان کی صفت ہے اور اکڑ ناکامیاب انسان کی صفت۔ p. 82