Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تربیت اولاد p. 307
الترمذی نے اپنی سنن میں اور البیھقی نے شعب الایمان میں ایوب بن موسیٰ کی ایک روایت نقل کی ہے جس کو انہوں نے اپنے والد سے سنا اور والد نے اپنے دادا سے سنا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ باپ کی طرف سے اپنے بیٹے کے لیے اس سے بہتر کوئی عطیہ نہیں کہ وہ اس کو اچھے آداب سکھائے )ما نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِنْ نَحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ) سنن الترمذي،حدیث نمبر 1952؛ شعب الإيمان للبيهقي ،حدیث نمبر 1554۔ p. 307quoted source
اس حدیث میں بظاہر صرف والد کا ذکر ہے مگر تبعاً اس سے مراد والد اور والدہ دونوں ہیں۔ نیز ادب کا لفظ یہاں تعلیم و تربیت کے تمام پہلوؤں کے لیے جامع ہے، خواہ وہ مذہبی نوعیت کی چیزیں ہوں یا دنیاوی نوعیت کی چیزیں۔ p. 307
عورت اور مرد کو فطری طور پر اپنی اولاد سے غیر معمولی محبت ہوتی ہے۔ اس حدیث میں بتایا گیا کہ اس محبت کا بہترین استعمال کیا ہے یا کیا ہونا چاہیے۔ وہ استعمال یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو آداب زندگی سکھائیں۔ وہ اپنے بچوں کو بہتر انسان بنا کر دنیا کے کارزار میں داخل کریں۔ p. 307original + quote
یہ دیکھا گیا ہے کہ والدین اپنی محبت کااستعمال زیادہ تر اس طرح کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے میں لگے رہتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ بچہ جو چاہے وہ اس کے لیے حاضر کر دیا جائے، یہی بچہ کے لیے محبت کا سب سے زیادہ بڑا استعمال ہے، مگر یہ بچوں کے حق میں خیر خواہی نہیں۔ p. 308
چھوٹا بچہ اپنی خواہشوں کے سوا کچھ اور نہیں جانتا۔ اس کی سوچ بس یہ ہوتی ہے کہ اس کے دل میں جو خواہش آئے وہ فوراً پوری ہو جائے۔ مگر یہ طفلانہ سوچ ہے۔ کیونکہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بچہ ایک دن بڑا ہوگا۔ وہ بڑا ہو کر دنیا کے میدان میں داخل ہوگا۔ زندگی کے اس اگلے مرحلہ میں کامیاب ہونے کے لیے بچہ کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ کہ وہ آداب حیات سے مسلح ہو کر وہاں پہنچا ہو۔ p. 308
بچہ جب بالکل چھوٹا ہو اسی وقت سے اس کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع کر دینا چاہیے تاکہ یہ چیزیں عادت بن کر اس کی زندگی میں داخل ہو جائیں۔ زندگی کے ان آداب کے تین خاص پہلو ہیں___ دین، اخلاق، ڈسپلن۔ p. 308
دین کے اعتبار سے بچہ کی تربیت کا آغاز پیدائش کے فوراً بعد ہو جاتا ہے جب کہ اس کے کان میں اذان کی آواز داخل کی جاتی ہے۔ یہ علامتی انداز میں اس بات کا اظہار ہے کہ بچہ کو دین دار بنانے کا عمل آغاز عمر ہی سے شروع کر دینا ہے۔ یہ کام ماں اور باپ دونوں کو کرنا ہے۔ p. 308
والدین کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ بچہ کے اندر توحید اور اسلامی عقائد خوب پختہ ہو جائیں۔ ذکر اور عبادت اس کی زندگی کے لازمی اجزاء بن کر اس کی شخصیت میں شامل ہو جائیں۔ وہ نماز، روزہ کا پابند ہو۔ صدقہ اور خیرات کا شوق اس کے اندر پیدا ہو جائے۔ قرآن اور حدیث سے اس کو اس قدر شغف ہو جائے کہ وہ روزانہ اس کا کچھ نہ کچھ حصہ مطالعہ کرنے لگے۔ اس کو دیکھ کر ہر آدمی یہ کہہ دے کہ یہ بچہ ایک دین دار بچہ ہے۔ p. 309
اخلاق کی تربیت کی صورت یہ ہے کہ ہر موقع پر بچہ کو سکھایا جائے۔ اگر وہ غلطی کرے تو اس کو ٹوکا جائے۔ حتیٰ کہ اگر ضرورت ہو تو اس کی تنبیہہ کی جائے۔ بھائی بہنوں میں لڑائی ہو تو فوراً سمجھایا جائے۔ اگر کبھی بچہ جھوٹ بولے یا کسی کو گالی دے۔ یا کسی کی چیز چرا لے تو نہایت سختی کے ساتھ اس کا نوٹس لیا جائے۔ اور یہ سب بالکل بچپن سے کیا جائے تاکہ بچہ کی زندگی میں یہ چیزیں مستقل کردار کے طور پر شامل ہو جائیں۔ p. 309
یہی طریقہ ڈسپلن کے بارے میں اختیار کرنا ہے۔ بچہ کو اوقات کی پابندی سکھائی جائے۔ چیزوں کو صحیح جگہ رکھنے کی عادت ڈالی جائے۔ کھانا پینا باقاعدہ وقت کے ساتھ ہو۔ اگر وہ کوئی کاغذ یا تھیلی سڑک پر پھینک دے تو فوراً اسی سے اس کو اٹھوایا جائے۔ شور کرنے سے روکا جائے، ہر ایسی چیز سے بچنے کی تلقین کی جائے جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہو۔ p. 309
بچہ کی حقیقی تربیت کے لیے خود ماں باپ کو اپنا طرز زندگی اس کے مطابق بنانا ہوگا۔ اگر آپ اپنے بچہ سے کہیں کہ جھوٹ نہ بولو، اسی کے ساتھ آپ یہ کریں کہ جب کوئی شخص دروازہ پر دستک دے تو کہلوا دیں کہ وہ اس وقت گھر پر نہیں ہیں تو ایسی حالت میں بچہ کو جھوٹ سے روکنا بے معنی ہوگا۔ اگر آپ سگرٹ پیتے ہوں تو بچہ کے سامنے اسموکنگ کے خلاف تقریر کرنا بے معنی ہے۔ اگر آپ وعدہ پورا نہ کرتے ہوں اور بچہ سے کہیں کہ بیٹے ہمیشہ وعدہ پورا کرو، تو بچہ کبھی ایسی نصیحت کو نہیں پکڑے گا۔ p. 309
بچہ اپنے والدین کو ماڈل کے روپ میں دیکھتا ہے۔ اسی طرح بڑا بچہ چھوٹے بچوں کے لیے ماڈل ہوتا ہے۔ اگر والدین اور بڑا بچہ ٹھیک ہو تو بقیہ بچے اپنے آپ سدھرتے چلے جائیں گے۔ p. 309