Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مطالعہ سیرت p. 346
پیغمبراسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کی ایک استثنائی شخصیت ہیں۔ آپ واحد انسان ہیں جن کی زندگی میں انسانیت اعلیٰ کے تمام پہلو اپنی کامل صورت میں جمع ہوگئے۔ آپ کی زندگی کا مطالعہ گویا کامل انسانیت کا مطالعہ ہے۔ یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ (68:4)۔ p. 347original + quote
سیرت رسول ایک جامع قسم کی انسانی انسائیکلو پیڈیا ہے۔ وہ نہ صرف حیات بشری کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے بلکہ مختلف زمانوں کی رعایت بھی اس میں کمال درجہ میں پائی جاتی ہے۔ p. 347
تاہم سیرت رسول کا مطالعہ سادہ طور پر ڈکشنری کے انداز میں نہیں کیا جا سکتا۔ ڈکشنری میں ہم ایسا کرتے ہیں کہ اپنا مطلوب لفظ حروف تہجی کی ترتیب سے نکال کر دیکھ لیتے ہیں۔ اسی طرح سیرت کا مطالعہ اس طرح نہیں کیا جا سکتا کہ حدیث اور سیرت کی مروجہ کتابوں میں متعلق ابواب کو کھول کر دیکھ لیا جائے۔ ایسا مطالعہ سیرت کا کامل مطالعہ نہیں ہو سکتا۔ p. 347
قرآن میں ہے کہ: تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ کا اور آخرت کے دن کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے(23:21)۔ p. 347Qur'an
رسول کی زندگی میں بلاشبہ حیات بشری کے لیے کامل نمونہ ہے۔ مگر اس نمونہ کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ سمجھنے کے لیے وہ شخصیت درکار ہے جس کی معرفت اتنی بڑھی ہوئی ہو کہ ایک خدا ہی اس کی تمام توجہات کا مرکز بن جائے۔ وہ زندگی کی حقیقت سے اتنا زیادہ باخبر ہو جائے کہ آخرت کے سوا ہر چیز اس کو بے حقیقت نظر آنے لگے۔ وہ معرفت کی اس سطح پر پہنچا ہوا ہو کہ اللہ کی یاد اس کی سب سے بڑی ذہنی سرگرمی بن گئی ہو۔ p. 348
آدمی جب روحانی بلندی یا شعوری ارتقاء کے اس درجہ پر پہنچتا ہے تو وہ آخری حد تک حقیقت شناس بن جاتا ہے۔ اور ایک سچا حقیقت شناس ہی سیرت کو اس کی تمام گہرائیوں کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔ آدمی حقیقت شناسی کے جس مرتبہ پر ہوگا اسی کے بقدر وہ سیرت کے رموز کو سمجھنے میں کامیاب ہوگا۔ p. 348
سیرت کا مطالعہ گویا معرفت کے سمندر میں غواصی ہے۔ غواصی کا یہ عمل قیامت تک جاری رہے گا۔ لوگ اپنی ہمت کے مطابق ہمیشہ اس سے نئے نئے موتی نکالیں گے۔ ہر دور کے انسان اس خزانہ سے مالا مال ہوتے رہیں گے، وہ کبھی کسی کے لیے خالی ہونے والا نہیں۔ p. 348