Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
چپ رہنا p. 173
عبداللہ بن عمروؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ صَمَتَ نَجَا (سنن الترمذي،حدیث نمبر2501)۔ یعنی، جو شخص چپ رہا اس نے نجات پائی۔اسی طرح ایک اور روایت کے مطابق ، آپ نے فرمایا: الصَّمْتُ حُكْمٌ وَقَلِيلٌ فَاعِلُهُ (مسند الشهاب للقضاعي،حدیث نمبر 240)۔ یعنی، خاموشی حکمت ہے۔ مگر بہت کم ہیں جو اس پر عمل کرتے ہوں۔ p. 173original + quote
خاموشی بے عملی نہیں، خاموشی خود ایک اعلیٰ ترین عمل ہے۔ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا صاحبِ دماغ ہونا ہے۔ اور خاموشی اس بات کی علامت ہے کہ آدمی واقعتہً دماغ والا انسان ہے۔ وہ اپنے اندر ذہنی عمل کی صلاحیت رکھتا ہے۔ p. 173
چپ رہنا سوچنا ہے۔ جب آدمی چپ ہو تو وہ سادہ طور پر صرف چپ نہیں ہوتا، وہ اس وقت غور و فکر میں مشغول ہوتا ہے۔ اور غور و فکر بلاشبہ سب سے بڑا عمل ہے۔ بولنا اگر اعضاء و جوارح کی حرکت کا نام ہے تو چپ رہنا دماغ کی حرکت کا نام۔ بولنا اگر آدھا عمل ہے تو چپ رہنا پورا عمل۔ p. 173
چپ رہنا سنجیدگی کی علامت ہے۔ جب آدمی چپ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ باتوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ وہ بولنے سے پہلے یہ سوچ رہا ہے کہ کیا بولے اور کیا نہ بولے۔ وہ دوسروں کو مخاطب بنانے سے پہلے خود اپنے آپ کو مخاطب بنا رہا ہے۔ وہ عاجلانہ اقدام کے بجائے سوچے سمجھے اقدام کا منصوبہ بنانے میں مشغول ہے۔ p. 174
بولنا بے صبری ہے اور چپ رہنا صبر ہے۔ بولنا بے احتیاطی ہے اور چپ رہنا احتیاط ہے۔ بولنا غیر ذمہ دارانہ انداز ہے اور چپ رہنا ذمہ دارانہ انداز۔ بولنا محدودیت ہے۔ جو آدمی بول دے اس کی گویا حد آ گئی، مگر چپ رہنا لامحدودیت ہے۔ جو آدمی چپ ہو وہ اتھاہ آدمی ہے۔ وہ ایسا آدمی ہے جس کی ابھی حد نہیں آئی۔ بولنے والا آدمی فوراً بول پڑتا ہے، اور چپ رہنے والا آدمی اس وقت بولتا ہے جب کہ تمام لوگ اپنے الفاظ ختم کر چکے ہوں۔ p. 174
اسلام آدمی کے اندر خود احتسابی اور غور فکر کا مزاج بناتا ہے۔ وہ ایسے افراد تیار کرتا ہے جو سوچنے والے ہوں، جو بولنے سے زیادہ چپ رہنے کو محبوب رکھتے ہوں۔ p. 174