Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سب پر سلامتی p. 119
اسلام میں زندگی کے جو آداب بتائے گیے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب دو آدمی آپس میں ملیں تو وہ ایک دوسرے کو سلام کریں۔ یعنی ایک شخص کہے کہ السلام علیکم (تمہارے اوپر سلامتی ہو) اس کے بعد دوسرا شخص جواب میں کہے وعلیکم السلام (تمہارے اوپر بھی سلامتی ہو) p. 119
سلام کا یہ کلمہ ایک قسم کی دعا ہے۔ ایک مومن کے دل میں دوسرے مومن کے لیے خیرخواہی کا جذبہ ہوتا ہے۔ یہ جذبہ مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ ان میں سے ایک مذکورہ سلام کا طریقہ ہے۔ سلام کی بہترین تشریح وہ ہے جو ابن عُیینہ سے نقل کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ سلام کیا ہے۔ سلام کرنے والا دوسرے شخص سے کہتا ہے کہ تم مجھ سے محفوظ ہو (هَلْ تَدْرِي مَا السَّلَامُ يَقُولُ: أَنْتَ آمِنٌ مِنِّي) بر الوالدین للبخاری، اثر نمبر 45۔ p. 119original + quote
سلام کی یہ تشریح بہت بامعنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ہر اعتبار سے تمہارا خیرخواہ ہوں۔ میری طرف سے تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔ میں تمہارے لیے کوئی مسئلہ پیدا کرنے والا نہیں۔ p. 119
تم سے میری گفتگو ہو تو میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا کہ میں تم سے بدکلامی کرنے لگوں۔ تمہارے ساتھ میرا کوئی لین دین ہو تو میں تمہارے ساتھ غصب اور خیانت کا معاملہ نہیں کروں گا۔ بلکہ تمہارا جو حق ہے، اس کو انصاف اور دیانت کے ساتھ پورا پورا ادا کروں گا۔ تمہارے خلاف اگر مجھے کوئی شکایت ہو جائے تب بھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں عدل کے راستہ سے ہٹ جاؤں اور تمہارا دشمن بن کر تمہاری جڑ کاٹنے لگوں۔ تم سے اگر مجھے کوئی اختلاف ہو تو میں اس اختلاف کو جائز تنقید کے دائرہ میں رکھوں گا، میں اس کو عیب جوئی، الزام تراشی اور کردار کشی کی حد تک ہرگز نہیں لے جاؤں گا۔ p. 120
السلام علیکم کوئی رسمی کلمہ نہیں، وہ بااصول زندگی گزارنے کا ایک عہد ہے۔ السلام علیکم کہنے والا گویا اس بات کا اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ روزمرّہ کی زندگی میں اس کا سلوک دوسروں کے ساتھ کیسا ہو گا۔ وہ سلامتی اور خیرخواہی کا ہو گا نہ کہ بے امنی اور بدخواہی کا۔ p. 120