Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
معیار کو بلند کرنا p. 170
قدیم عرب میں برابر کی اخلاقیات کا رواج تھا۔ ان کی زندگی کا اصول یہ تھا کہ جو شخص جیسا کرے، اس کے ساتھ ویسا ہی کیا جائے۔ یعنی اچھا سلوک کرنے والے کے ساتھ اچھا سلوک اور بُرا سلوک کرنے والے کے ساتھ برا سلوک۔ ایک جاہلی شاعر اپنے حریف قبیلہ کے بارے میں کہتا ہے کہ زیادتی کی کوئی قسم ہم نے باقی نہیں چھوڑی۔ انھوں نے ہمارے ساتھ جیسا کیا تھا، ویسا ہی ہم نے ان کو بدلہ دیا: p. 170original + quote
وَلَمْ يَبْقَ سوَى الْعُدْوَا … نِ دِنَّاهُمْ كَمَا دَانوا (حماسة البحتري،صفحہ 137) p. 171other source
رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے ان کے اس تصور اخلاق کو بدلا۔ مساویانہ اخلاق کے بجائے آپ نے ان کو بلند اخلاقی کی تعلیم دی۔ آپ نے فرمایا اَحِسنۡ الیٰ من اساء الیک (جو شخص تمہارے ساتھ بُرا سلوک کرے، اس کے ساتھ تم اچھا سلوک کرو) ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا، وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا۔ (سنن الترمذي،حدیث نمبر 2007)یعنی، تم لوگ اِمّعہ نہ بنو کہ یہ کہنے لگو، اگر لوگ ہمارے ساتھ اچھا کریں تو ہم بھی ان کے ساتھ اچھا کریں گے۔ اور اگر وہ زیادتی کریں تو ہم بھی زیادتی کریں گے۔ بلکہ اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرو کہ لوگ تمہارے ساتھ اچھا کریں تو تم ان کے ساتھ اچھا کرو گے اور اگر لوگ تمہارے ساتھ برا کریں تب بھی تم ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرو گے۔ p. 171original + quote
آپ کی ایک سنت یہ بھی ہے کہ لوگوں کے شعور کو بلند کیا جائے۔ ان کے اخلاق کو اونچا کیا جائے۔ ان کی حالت کو ہر اعتبار سے اوپر اٹھانے کی کوشش کی جائے۔ p. 171
انسان کے انسانی معیار کو بلند کرنا، فکری، علمی، اخلاقی حیثیت سے اس کو اوپر اٹھانا، اہم ترین کام ہے۔ اسی میں فرد کی بھلائی ہے اور اسی میں پورے معاشرہ کی بھلائی بھی۔ یہ عین سنّت رسول ہے اور اس کو زندہ کرنا سنّت رسول کو زندہ کرنا ہے۔ p. 171