Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
عمومی عزت p. 115
جابربن عبداللہؓ ایک صحابی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ مدینہ کے راستہ میں ایک جنازہ گزرا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ پھر ہم نے کہا کہ اے خدا کے رسولؐ، یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ نے فرمایا کہ جب تم جنازہ کو دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ (إِذا رَأَيْتُمُ الجِنازَةَ فَقُومُوا) صحيح البخاري،حدیث نمبر 1311۔ p. 115original + quote
ایک اور روایت میں ہے کہ سَہل بن حُنَیف اور قَیس بن سَعد قادسیہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا۔ اس کو دیکھ کر دونوں کھڑے ہو گئے۔ ان سے کہا گیا کہ یہ تو ایک ذمی (غیر مسلم) کا جنازہ تھا۔ دونوں نے جواب دیا کہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے۔ آپ سے کہا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا، آپ نے فرمایا کہ کیا وہ انسان نہ تھا (أَلَيْسَتْ نَفْسًا) صحيح البخاري،حدیث نمبر 1312۔ p. 115original + quote
اس سے اسلام کا ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ انسان ہر حال میں قابل احترام ہے، حتی کہ اگر وہ غیر مسلم ہو یا دشمن گروہ سے تعلق رکھتا ہو، تب بھی دوسرے پہلوؤں کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کو بحیثیت انسان دیکھا جائے گا، اور انسان ہونے کے اعتبار سے ہر حال میں اس کو عزت اور احترام دیا جائے گا۔ p. 115
انسان خدا کی ایک ممتاز مخلوق ہے۔ قرآن کے لفظوں میں اس کو احسنِ تقویم (بہترین ساخت) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ انسان اپنی بناوٹ کے اعتبار سے تخلیق کا شاہکار ہے۔ کوئی انسان، اپنا ہو یا غیر، ہر حال میں وہ خدا کی مخلوق ہے۔ ہر حال میں وہ خالق کے کمالات کا ایک نمونہ ہے۔ اس لئے اختلاف کے باوجود قابل احترام ہے۔ اجنبیت کے باوجود اپنی انسانی حیثیت میں وہ اس قابل ہے کہ اس کو عزت دی جائے۔ p. 116original + quote
مومن ہرچیز میں خدا کا جلوہ دیکھتا ہے۔ ہر مخلوق میں اس کو خالق کا کرشمہ نظر آتا ہے۔ مومن کی یہ نفسیات مجبور کرتی ہے کہ وہ ہر انسان کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے۔ ہر انسان کے لیے اس کے دل میں قدردانی کا جذبہ موجود ہو۔ p. 116