Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
کامیابی کے دس اصول p. 493
امریکا میں چھپی ہوئی ایک کتاب نظر سے گزری ۔ یہ کتاب ایک کامیاب امریکی تاجر کی لکھی ہوئی ہے۔ اس نے یہ کتاب اپنے20 سالہ تجارتی تجربات کی روشنی میں تیار کی ہے ۔ اس خوبصورت کتاب میں ہر صفحہ پر دو تجارتی اصول جلی حرفوں میں درج ہیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ ٹاپ پر فارمرس نے ہمیشہ مثبت عادات (positive habits) کے ذریعہ ترقی کی ہے p. 493
The Book of Excellence by Byrd Baggett. p. 494
236 habits of effective salespeople p. 494
ان مثبت عادتوں کو مصنف نے236 چھوٹے چھوٹے جملوں میں مرتب کیا ہے ۔ کتاب کو پڑھ کر میں نے دس جملے منتخب کیے ہیں جو کہ حسب ذیل ہیں p. 494
A bad attitude cancels all other positive skills. p. 494
ایک برا رویہ تمام دوسری خوبیوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔ p. 494
Be as critical of yourself as you are of others. p. 495
اپنے بارے میں بھی اتنا ہی تنقیدی بنو جتناتم دوسروں کے لیے تنقیدی ہو۔ p. 495
You are not learning anything when you are talking. p. 495
جب تم بولتے ہو تو تم کچھ سیکھ نہیں رہے ہو ۔ p. 495
Excellence is not optional. p. 495
امتیاز کوئی اختیاری چیز نہیں۔ p. 496
Take an active, not passive, role in helping your community. p. 496
اپنی کمیونٹی کی مدد کرنے میں فعال کردار ادا کرو۔ p. 496
Customers love humility. p. 496
گاہک ہمیشہ تواضع کو پسند کرتے ہیں۔ p. 497
Patience is a virtue. Don't give up. p. 497
برداشت ایک نیکی ہے، اس کو کبھی نہ چھوڑو ۔ p. 497
There is no replacement for effort. p. 497
کوشش کاکوئی بدل نہیں۔ p. 497
Success does not come easily. Are you willing to pay the price? p. 498
کامیابی آسانی سے نہیں آتی، کیا تم اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہو۔ p. 498
Stop, listen, and think before you respond. p. 498
ٹھہرو،سنو، اور جواب دینے سے پہلے غور کرو۔ p. 498
یہ اقوال اس فطری حکمت کو بیان کرتے ہیں، جن کو اختیار کر کے کوئی شخص دنیامیں اپنی کامیابی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ یہ اقوال کا میابی کی کنجی ہیں۔ p. 499
back cover text p. 499
موجودہ دنیا میں جو انسان پیدا ہوتا ہے، وہ گویا نرسری کا ایک پودا ہے۔ایک محدود مدت تک وہ اِس دنیا میں رہتا ہے۔اِس دوران اُس کے ساتھ مختلف قسم کے حالات گزرتےہیں۔ یہ گویا اُس کے لیے تربیتی کورس ہیں جو اس کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے اندر مطلوب شخصیت تعمير كرے۔ يعني صبر، شکر، اعراض اور مثبت سوچ جيسي صفات پیدا کرے۔ موت اِس تربیتی کورس کے خاتمے کا اعلان ہے۔ جو انسان اِس ملی ہوئی مدت کے دوران اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرلے، اس کو ايك ابدی دنیا (جنت) میں بسا دیا جاتا ہے۔ اور جو لوگ اپنے اندرمطلوب شخصيت كي تعمیر نہ کرسکیں، اُن کے لیے ابدی محرومی مقدر ہے۔ p. 499