Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اذیت پر صبر p. 181
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں p. 182hadith
عَنِ ابْنَ عُمَرعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَالْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ، وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ، وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ قَالَحَجَّاجٌخَيْرٌ مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ(حدیث نمبر 5022)۔ یعنی عبد اللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ مومن جو لوگوں سے مخالطت کرتا ہے، اور ان کی اذیت پر صبر کرتا ہے، وہ اجر میں اس سے زیادہ ہے جو مخالطت نہیں کرتا، اور لوگوں کی اذیت پر صبر نہیں کرتا۔ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں، وہ بہتر ہے ان سے جو لوگوں سےمخالطت نہ کرے۔ p. 182original + quote
مخالطت کا مطلب ملنا جلنا (social intercourse) ہے۔ جو شخص اپنے آپ میں جینے والا ہو، اس کو لوگوں کی طرف سے کوئی اذیت نہیں پیش آئے گی۔ لیکن جو شخص لوگوں کے درمیان رہے، لوگوں کے ساتھ اس کا انٹر ایکشن ہوتا ہو، لوگوں کے ساتھ اس کے معاملات پیش آئیں، ایسے آدمی کو فطری طور پر دوسروں کی طرف سے چھوٹی یا بڑی اذیت پیش آئے گی۔ p. 182
تنہائی کی زندگی گزارنے والے کے مقابلے میں مخالطت کی زندگی گزارنے والا افضل کیوں ہوتا ہے۔اس کا سبب فطرت کا ایک اصول ہے۔ فطری نظام کے تحت ہر آدمی بے پناہ صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن یہ صلاحیتیں اس کے اندر بالقوۃ (potential) کے طور پر ہوتی ہیں۔ اس بالقوۃ کو بالفعل (actual) بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان کو شاک کا تجربہ پیش آئے۔ فطرت کا نظام شاکنگ ٹریٹمنٹ (shocking treatment) کے اصول پر قائم ہے۔ جو آدمی شاک کو سہے، اس کے فطری امکانات اَن فولڈ (unfold) ہوتے رہتے ہیں، اس کا ذہنی ارتقا (intellectual development) ہوتا رہے گا۔ اس کے برعکس، جو شخص صدمہ (shock) کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو اس کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل جاری نہیں ہوگا۔ وہ جیسا پیدا ہوا تھا، ویسے ہی مرجائے گا۔ p. 182
صبرکا وقت عبادت کا وقت ہے p. 183
مسجد سے اذان کی آواز بلند ہو تو لوگ جان لیتے ہیںکہ خدا کی عبادت کا وقت آگیا۔ وہ تیزی سے چل کر مسجد پہنچتے ہیںتاکہ خدا کی عبادت کرکے اُس کا انعام حاصل کرسکیں۔ اسی طرح جب رمضان کے مہینے کا نیا چاند افق پر دکھائی دیتاہے تو لوگ فوراً سمجھ لیتے ہیں کہ اب روزے کا مہینہ آگیا۔ وہ ضروری تیاریاں شروع کردیتے ہیں تاکہ رمضان کے روزے رکھ کر وہ ثواب حاصل کرسکیں جو خدا نے روزے کی عبادت میںرکھ دیا ہے۔ p. 183
اسی طرح صبر بھی ایک عبادت ہے۔ جب بھی وہ وقت آجائے جب کہ خدا کی مرضی پر قائم رہنے کے لیے صبر کی قیمت دینا ضروری ہوگیا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صبر والی عبادت کی ادائیگی کا وقت آگیا، وہ عبادت جس پر اللہ نے بے حساب اجر کا فیصلہ فرمایا ہے إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ(39:10)۔یعنی، بیشک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بےحساب دیا جائے گا۔ p. 183original + quote
ایک آدمی آپ کے ساتھ اشتعال انگیزی کرے اور آپ کے اندر غصے کی آگ بھڑک اٹھے تو ایسی حالت میں اللہ کا حکم ہے کہ تم جوابی غصے کی کارروائی نہ کرو بلکہ اِس پر صبر کی روش اختیار کرتے ہوئے اُس آدمی کو معاف کردو (الشوریٰ،42:37)۔ گویا کسی کے دل میں غصے کا آنا اُس کے لیے صبر کی عبادت ادا کرنے کے وقت کا آنا ہے۔ یہ عبادت بلا شبہ اُسی طرح مطلوب ہے جس طرح دوسری معروف عبادتیں۔ p. 183original + quote
یہی معاملہ دوسرے تمام منفی جذبات کا ہے۔ جب بھی ایک آدمی کے اندر کسی کے بُرے سلوک کے نتیجے میں نفرت، انتقام اور حسد جیسے منفی جذبات بھڑکیں تو یہ اس بات کا خاموش اعلان ہوتا ہے کہ اُس آدمی کے لیے صبر کی اعلیٰ عبادت ادا کرنے کا وقت آگیا۔ وہ فریقِ ثانی کی طرف سے بدسلوکی پر صبر کرکے یک طرفہ طورپر حسن اخلاق کا ثبوت دے اور اس کا مستحق بن جائے کہ اعلیٰ ترین عبادت پر اُس کو اعلیٰ ترین انعام کا مستحق قرار دیا جائے۔ p. 183