Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اعراض p. 308
اسلام کا ایک اہم معاشرتی اصول اعراض ( اوائڈنس) ہے۔ یعنی شکایت اور اختلاف کے موقع پر ٹکراؤ سے پر ہیز کرنا۔ اشتعال کے موقع پر رد عمل کا طریقہ اختیار کرنےکے بجائے اپنے آپ کو مثبت رویہ پر قائم رکھنا۔ p. 308
ہر مرد و عورت کا مزاج دوسرے مرد و عورت سے مختلف ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک اور دوسرے کے درمیان اور بہت سے فرق ہیں جس کی بنا پر بار بار ایک کو دوسرے سے ناخوش گواری کا تجربہ پیش آتا ہے۔ ایک اور دوسرے کے درمیان اختلاف کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اجتماعی زندگی میں خواہ وہ گھر کے اندر کی ہو یا گھر کے باہر کی، اس طرح کی ناپسندیدہ صورت حال کا پیش آنا بالکل فطری ہے۔ اس کو روکنا کسی حال میں ممکن نہیں ۔ p. 308
اب ایک طریقہ یہ ہے کہ ہر اختلاف سے ٹکراؤ کیا جائے۔ ہرنا خوش گواری سے براہ راست مقابلہ کر کے اس کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح کی کوشش غیر فطری ہے ۔ اس لیے کہ وہ مسئلہ کو صرف بڑھانے والی ہے ۔ وہ ہر گز اس کو گھٹانے والی نہیں ۔ p. 308
اسلام میں ایسے مواقع پر اعراض کی تعلیم دی گئی ہے۔ یعنی ناخوش گوار صورت حال کو مٹانے کے بجائے اس کو برداشت کرنا ، اشتعال انگیزی کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس کو نظر انداز کرنا، اختلاف کے باوجود لوگوں کے ساتھ متحد ہو کر رہنا۔ p. 309
اسلام کے مطابق یہ صرف ایک معاشرتی طریقہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک عظیم ثواب بھی ہے۔ لوگوں کے درمیان اچھے طریقے سے رہنا عام حالات میں بھی ایک ثواب ہے ۔ مگر جب کوئی شخص شکایت اور اختلاف کے باوجود لوگوں کے ساتھ اچھے رویہ پر قائم رہے ، وہ اپنے منفی جذبات کو دبا کر مثبت روش کا ثبوت دے تو اس کا ثواب بہت بڑھ جاتا ہے۔ خدا کے یہاں ایسے لوگوں کا شمار محسنین میں کیا جائے گا یعنی وہ لوگ جنھوں نے دنیا کی زندگی میں بہتر اخلاق اور اعلیٰ انسانیت کا ثبوت دیا۔ اعراض کے بغیر اعلیٰ انسانی کردار پر قائم رہنا ممکن نہیں۔ p. 309