Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اسٹیٹس کو اِزم p. 151
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ، أَلاَ تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلاَنًا؟ قَالَ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثْرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الحَوْضِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر3792)۔ یعنی، اسید بن حُضَیر روایت کرتے ہیں کہ (مدینہ میں )انصار کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے کہا آپ نے مجھے عامل نہیںبنایا، جیسا کہ فلاں کو عامل بنایا۔ آپ نے کہا تم میرے بعد ترجیح دیکھو گے، تو تم لوگ صبر کرو، یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر ملاقات کرو۔ p. 152original + quote
صبر کا لفظ یہاں جامع معنی میں ہے۔ یعنی اسٹیٹس کو (status quo) کو مان لینا۔ جو ہے اس کو مان لینا، اور اس کا سبب نہ ڈھونڈنا۔ یہی کامیابی کا واحد طریقہ ہے۔ اختلاف کے وقت اگر سبب پوچھا جائے تو وہ صرف اختلاف کو بڑھائے گا، وہ اختلاف کو ختم کرنے والا نہیں۔ ایسے حالات میں صبر کا مطلب ہے سبب کو نہ ڈھونڈا جائے۔ p. 152
ترجیح کا مطلب ہے ایک کے مقابلے میں دوسرے کو فیور (favour)دینا ۔ بظاہر یہ ایک مسئلہ ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے صبر کرنے کی تلقین کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے مسائل اتنے ہوتے ہیں کہ وہ کبھی حل نہیں ہوتے، وہ ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔ اگر آدمی ان سے ٹکرائے یا ان کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کرے تو عملا ایسا کبھی ہوگا نہیں۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل بات یہ ہے کہ آدمی کے لیے جو ممکن ہے، وہ اس پر راضی ہوجائے۔وہ اسٹیٹس کو (status quo) کو مان کر اپنی زندگی کا سفر جاری رکھے۔ p. 152original + quote
انسان کے لیے ٹکراؤ کرنے سے زیادہ مفید بات یہ ہے کہ وہ اسٹیٹس کو کو مان کر ممکن پر راضی ہوجائے۔ تاکہ اس کو اپنی منصوبہ بندی کا موقع مل سکے۔کبھی اقدام نہ کرنا بھی عمل کی صورت ہوتی ہے۔ کیوں کہ ایسی روش آدمی کو مزید نقصان سے بچاتی ہے۔ p. 152