Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
صبر کاپھل p. 268
نسیم علی خاں صاحب (پیدائش 1959ء)گیارہ سال سے بمبئی میں رہتے ہیں ۔ 23 اگست 1990ء کی ملاقات میں انھوں نے ایک واقعہ بتایا جو بہت سبق آموز ہے ۔ p. 269
بمبئی میں سیوری کر اس روڈ کے علاقہ میں’’ مقدس مسجد‘‘ کے نام سے ایک مسجد ہے ۔ یہاں پچھلے25سال سے تبلیغی جماعت کا کام ہو رہا تھا۔ تین سال پہلے کی بات ہے، ایک روز سنی (بریلوی) مسلمانوں کی ایک جماعت اچانک مسجد میں آگئی۔ یہ جمعہ کا دن تھا ، وہ کھڑے ہو کر سلام پڑھنے لگے ۔ دوسرے مسلمانوں نے انھیں روکا۔ اس پر بات بڑھی ، اور پولس بلانی پڑی ۔ p. 269
بریلوی حضرات کے مطالبہ پر آخر کار یہ طے ہوا کہ وہ سلام نہیں پڑھیں گے، مگر تبلیغی جماعت والے بھی یہاں اپنی کتاب پڑھنا بند کر دیں گے ۔ اس پر تبلیغ والے راضی ہو گئے ۔ p. 269
اب مسجد میں تبلیغ والوں کی کتاب کا پڑھنا بند ہو گیا ۔تاہم تبلیغ والوں نے اپنا کام بند نہیں کیا۔ اب وہ مسجد کے دروازہ پر اپنا پر وگرام کرنے لگے۔ تبلیغ والوں نے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔ البتہ اخلاقی تدبیریں کرتے رہے ۔ مثلاً ایک بار انھوں نے سیوری کے سنی مسلمانوں کے سرکردہ افراد کو کھانے پر بلایا ۔ ان کے لیے عمدہ طریقہ پر دعوت کا انتظام کیا ، وغیرہ ۔ p. 269
یہ سلسلہ تقریباً ڈیڑھ سال تک جاری رہا۔ تبلیغ والے صبر کے ساتھ مسجد کے باہر اپنا پروگرام کرتے رہے۔ اسی کے ساتھ خوش اخلاقی اور خوش تدبیری کے ذریعہ ان کے دلوں کو نرم بھی کرتے رہے ۔ آخر کار تمام مخالف لوگ نرم پڑ گئے ، یہاں تک کہ انھوں نے تبلیغ والوں کو اجازت دے دی کہ وہ مسجد کے اندر آکر اپنا پروگرام کر سکتے ہیں ۔ p. 269
یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا طریقہ ہے۔ اسی کے ذریعہ تمام مسئلے حل ہو سکتے ہیں، خواہ وہ مسئلہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان پیدا ہوا ہو یا مسلمان اور ہندو کے درمیان ۔ p. 270
موجودہ دنیا آزادی کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کو اپنی مرضی کے مطابق عمل کرنے کا اختیار ہے۔اس لیے یہاں ایک دوسرے کے درمیان اختلاف کا پیش آنا عین فطری ہے ، اس کا حل ٹکراؤ میں نہیں۔اس کا واحد حل وہی ہے جس کو’’ حکمت اعراض‘‘ کہا جاتا ہے ۔ p. 270