Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
عافیت کی زندگی p. 225
حاتم اصم (وفات 237ھ)جب امام احمد (وفات 241ھ)کےپاس آئے توامام احمد نے ان سے پوچھايَا حَاتِمُ فِيمَ التَّخَلُّصُ مِنْ النَّاسِ؟ قَالَ يَا أَحْمَدُ فِي ثَلَاثِ خِصَالٍ أَنْ تُعْطِيَهُمْ مَالَك وَلَا تَأْخُذَ مِنْ مَالِهِمْ شَيْئًا، وَتَقْضِيَ حُقُوقَهُمْ وَلَا تَسْتَقْضِيَ أَحَدًا مِنْهُمْ حَقًّا لَك، وَتَحْتَمِلَ مَكْرُوهَهُمْ وَلَا تُكْرِهَ أَحَدًا مِنْهُمْ عَلَى شَيْءٍ(تاریخ بغداد، جلد 8، صفحہ237)۔یعنی، امام احمد نے ان سے کہا کہ مجھے بتائیےکہ لوگوں سے محفوظ کیسے رہا جائے۔حاتم اصم نے کہا کہ تین چیزوں کے ذریعہ سے ان کو اپنا مال دیں، مگر خود ان کا مال نہ لیں۔ لوگوں کے حقوق ادا کریں ، مگر اپنے حقوق ان سے نہ مانگیں۔ لوگوں کی ایذاؤں پر صبر کریں اور خود ان کو ایذا نہ پہنچائیں۔ p. 225original + quote
ان تینوں باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ یک طرفہ طور پر لوگوں کو یہ احساس دلا دیں کہ وہ آپ سے پوری طرح محفوظ ہیں۔ اس کے بعد آپ بھی ان سے پوری طرح محفوظ ہو جائیں گے۔ لوگوں کو یہ احساس تین تدبیروں کے ذریعہ دلایا جا سکتا ہے۔ p. 226
لوگوں کے پاس جو کچھ ہے ، اس سے اپنے آپ کو مستغنیٰ بنا لیں۔ مگر آپ کے پاس جو کچھ ہے، اس میں سے آپ لوگوں کو حسبِ توفیق ان کا حصہ پہنچاتے رہیں۔ آپ لوگوں سے لینے والے نہ بنیں ، اس کے بجائے آپ لوگوں کو دینے والے بن جائیں۔ p. 226
لوگوں کا جو حق آپ کے اوپر ہو اس کی ادائیگی میں آپ کوئی کوتا ہی نہ کریں۔ مگر دوسروں کے اوپر آپ کا جو حق آتا ہو، اس کو دوسروں سے وصول کرنے کی کبھی کوئی مہم نہ چلائیں۔ p. 226
معاشرتی زندگی میں بار بار ایسا ہوگا کہ دوسروں کی طرف سے آپ کو تکلیف پہنچے گی۔ اس طرح کے مواقع پر آپ یک طرفہ صبر و تحمل کی پالیسی کو اختیار کر لیں ، آپ صرف اتنا ہی نہ کریں کہ دوسروں کو آپ ایذانہ پہنچائیں ،بلکہ اس سے بڑھ کر آپ کا رویہ یہ بن جائے کہ دوسروں کی ایذاؤں پر آپ صبر کر لیں ، آپ لوگوں سے بدلہ لیے بغیر انہیں معاف کر دیں۔ p. 226
دنیا میں عافیت کی زندگی حاصل کرنے کا یہی واحد یقینی نسخہ ہے۔ اس کے سوا جو تدبیر اختیار کی جائے گی، وہ امن وعافیت دینے والی نہیں بن سکتی۔ p. 227