Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
صبر کب تک p. 262
ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ آپ الرسالہ میں اکثر صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ آخر یہ صبر کب تک۔ میں نے کہا کہ آپ کے سوال کا جواب دینے سے پہلے میں خود آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں۔ آپ پہلے میرے سوال کا جواب دیں۔ اس کے بعد میں اس بات کی وضاحت کروں گا جو آپ نے دریافت فرمائی ہے۔ p. 262original + quote
پھر میں نے کہا کہ اسلام میں پانچ وقت کی نماز پڑھنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اگر ایک شخص آپ سے پوچھے کہ آخر یہ پانچ وقت کی نماز کب تک پڑھی جاتی رہے گی، تو آپ ایسے شخص کو کیا جواب دیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ نماز تو اللہ کی عبادت ہے۔ اس کی کوئی آخری حد نہیں ۔نماز ہر آدمی کو ساری عمر ادا کرنا ہے، یہاں تک کہ اس کی موت کا وقت آجائے۔ p. 262original + quote
میں نے کہا کہ یہی آپ کے سوال کا جواب بھی ہے۔ صبر بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ آدمی کو اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک صبر کی روش اختیار کرنا ہے۔ موت سے پہلے کسی سے یہ حکم رفع نہیں ہوتا۔ ایک مسلمان کو جس طرح نماز پڑھنا ہے، اسی طرح اس کو صبر بھی کرنا ہے۔ p. 263
آپ دیکھئے۔ قرآن میں نماز کا حکم جن لفظوں میں دیا گیا ہے، ٹھیک انھیں لفظوں میں صبر کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ نماز کے بارے میں قرآن میں ہے کہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ(108:2)۔اسی طرح صبر کے بارے میں قرآن میں فرمایا کہوَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ (74:7)۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز بھی اللہ کے لیے ہے اور صبر بھی اللہ کے لیے۔ دونوں ہی مومن کی پوری زندگی کا کورس ہیں۔ دونوں ہی کی حد اس وقت آتی ہے، جب کہ خود مومن کی زندگی کی حد آ جائے ۔ p. 263original + quote
صبر با مقصد انسان کا اخلاق ہے۔ مومن سب سے بڑا بامقصد انسان ہوتا ہے۔ اس لیے مومن سب سے زیادہ صبر والا ہوتا ہے۔ ایمان آدمی کے دل کو نرم کرتا ہے۔ وہ آدمی کو دوسروں کا خیر خواہ بناتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر تواضع اور اعتراف کی صفت پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر یہ جذبہ ابھارتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے ۔ ان صفتوں کے ساتھ جو اخلاقی روش مناسبت رکھتی ہے، وہ صبر ہی ہے۔ صبر کے بغیر کوئی شخص کبھی ان اعلیٰ صفات پر قائم نہیں رہ سکتا۔ p. 263
صبر ایک پیغمبرانہ عمل p. 263
ایک صاحب نے ماہنامہ الرسالہ میں ایک مضمون پڑھا۔ اس میں قرآن کے حوالے سے صبر کے طریقے کی اہمیت بتائی گئی تھی۔ وہ اس مضمون کو پڑھ کر غصہ ہوگئے، انھوں نے کہاکہ صبر کب تک، ہمارے اوپر ظلم ہورہا ہے تو ہم کب تک صبر کریں۔ ہمیں ظلم کے خلاف لڑنا ہے۔ ظلم کے خلاف صبر کرنا، بزدلی ہے، نہ کہ صبر۔ صبر بزدل کا ہتھیار ہے، وہ مظلوم کا ہتھیار نہیں۔ اگر ہر حال میں صبر کیا جائے تو صرف ظالموں کے لیے اس دنیا میں جگہ ہوگی، مظلوموں کے لیے خد اکی بنائی ہوئی اس دنیا میں کوئی جگہ باقی نہ رہے گی۔ p. 264original + quote
جو لوگ اس طرح سوچتے ہیں، میرے نزدیک وہ اس بات کو نہیں جانتے کہ صبر کوئی مجبوری کی چیز نہیں ۔ صبر بہادر آدمی کا طریقہ ہے۔ صبر دانش مند آدمی کا ہتھیار ہے۔ صبر تمام پیغمبروں کا طریقہ ہے (ابراہیم، 14:12)۔ حتی کہ خود اللہ رب العالمین کا بھی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6099)۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس دنیا میں صبر کرنے والوں کو ہمیشہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ جو لوگ بے صبری کا طریقہ اختیار کریں، وہ آخر کار ہمیشہ ناکام ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس معاملہ کا عزت نفس سے کوئی تعلق نہیں۔ عزت نفس (self respect) کا لفظ صرف نادانوں کی ڈکشنری میں پایا جاتا ہے۔ p. 264original + quote
جو لوگ صبر کو بزدلی کہتے ہیں، وہ اپنے نقطہ نظر کو بتانے کے لیے غلط لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگ قرآن کی اس آیت کے مصداق ہیں وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِّلْهُ (10:15)۔ یعنی، اور جب ان کو ہماری کھلی ہوئی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اس کو بدل دو ۔اسی طرح ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ قرآن کی اس آیت پر غور کریں وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ (14:5)۔ یعنی، اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر اجالے میں لاؤ اور ان کو اللہ کے دنوں کی یاد دلاؤ۔ بیشک ان کے اندر بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔ p. 264original + quote