Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
صبربہادری ہے p. 190
صبر بہادری ہے، اور بے صبری بزدلی۔ جو لوگ صبر کرنے پر تیار نہ ہوں انھیں آخر کار بزدل بن کر اس دنیا میں رہنا پڑے گا۔ اور بزدلی کا دوسرانام منافقت ہے جس سے زیادہ بری اخلاقی صفت اور کوئی نہیں۔ p. 191
موجودہ دنیا میں خود فطری نظام کے تحت بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان سے شکایت پیدا ہوتی ہے۔ ایک انسان کو دوسرے انسان سے کوئی ذہنی یا جسمانی تکلیف پہنچتی ہے یہ ایک لازمی صورت حال ہے۔ یہ معاملہ انسانی زندگی کے آغاز ہی میں ہابیل اور قابیل کے ٹکرائو کی صورت میں پیدا ہوا۔ اس کے بعد وہ تاریخ کے ہر دور میں، حتی کہ پیغمبروں کے زمانہ میں بھی جاری رہا ، وہ اسی طرح جاری رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے اور خود اس دنیا ہی کاخاتمہ ہو جائے۔ p. 191
ایسی حالت میں کسی بھی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ اپنی پسند کے عین مطابق ایسی زندگی حاصل کرلے جہاں اس کو نہ کسی سے شکایت ہو اور نہ کسی سے اختلاف ۔ ایسا انتخاب موجودہ دنیا میں کسی کے لیے ممکن ہی نہیں، نہ صالحین کے لیے اور نہ غیر صالحین کے لیے۔ p. 191
موجودہ دنیا میں حقیقی انتخاب صرف دو روش کے درمیان ہے۔ آپ یا تو گھر سے باہر تک ہر ایک سے مسلسل لڑتے رہیں یا شکایت واختلاف کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ پہلی روش اگر پھول کے درخت میں اس کے کانٹوں سے الجھنے کا نام ہے تو اس کے مقابلہ میں دوسری روش یہ ہے کہ کانٹے کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کے پھول کو لے لیاجائے۔ p. 191
مگر پہلی روش کسی کے لیے بھی مستقل طور پر ممکن نہیں کیوں کہ وہ اپنی اور اپنے گھر کی تباہی کے ہم معنی ہے۔ اورکوئی بھی اتنا نادان نہیں کہ وہ مستقل طور پر اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دے۔ اس لیے عملاً یہ ہوتا ہے کہ بے صبری کی روش اختیار کرنے والے وقتی طور پر دوسروں سے لڑتے ہیں اور آخرکار اس کاتباہ کن نتیجہ دیکھ کر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں مگر ایسی خاموشی کا مطلب منافقت ہوتا ہے۔ p. 192
موجودہ دنیا میں آپ کو بہر حال صبر کرنا ہے۔ اگر آپ اصول کی بنیاد پر صبر نہ کریں تو آپ کو مفاد کی بنیاد پر صبر کرنا پڑے گا اور اسی دوسری روش کانام منافقت ہے۔ p. 192