Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
قرآن کی ہدایت p. 227
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم لوگ صبر کا طریقہ اختیار کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ ان سب کا احاطہ کیے ہوئے ہےوَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (3:120) ۔ p. 227original + quote
ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ وہ صبر اور تقوی کے ذریعہ شرپسندوں کے شرسے اور فاجروں کی سازش سے اپنے آپ کو بچائیں يُرْشِدُهُمْ تَعَالَى إِلَى السَّلَامَةِ مِنْ شَرِّ الْأَشْرَارِ وَكَيْدِ الْفُجَّارِ بِاسْتِعْمَالِ الصَّبْرِ وَالتَّقْوَى (تفسير ابن كثير ، جلد2، صفحہ94)۔ p. 227original + quote
صفوۃ التفاسیر میں ہے کہ اگر تم نے ان کی ایذا پر صبر کیا اور اپنے اقوال اور اعمال میں تم اللہ سے ڈرے تو ان کی سازش اور ان کی تدبیر تم کو کچھ نقصان نہ پہنچائے گی۔ پس اللہ نے ان کے ضرر کو ختم کرنے کے لیے صبر اور تقوی کی شرط لگائیأي إن صبرتم على أذاهم واتقيتم الله في أقوالكم وأعمالكم لا يضركم مكرهم وكيدهم، فشرط تعالى نفي ضررهم بالصبر والتقوى (صفوۃ التفاسیر، جلد1، صفحہ205 )۔ p. 227original + quote
ہندستان میں فرقہ پرستوں کے جلوس اور ان کے دل آزار نعروں کے سلسلہ میں صبر اور تقویٰ کا انطباق کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ مسلمان ان کی اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ وہ ان کی دل آزاری کو یک طرفہ طور پر برداشت کر لیں۔ وہ رد عمل کا اظہار کرنے کے بجائے خاموشی کا رویہ اختیار کریں۔ وہ ہمیشہ صبر کے رویہ پر قائم ر ہیں۔ p. 228
دوسرے یہ کہ وہ کسی حال میں بھی تقوی کی روش نہ چھوڑیں۔ ایسے مواقع پر دنیوی انجام سے زیادہ اخروی انجام کو وہ اپنے سامنے رکھیں۔ وہ قوم پرستی کے بجائے اصول پسندی کا انداز اختیار کریں۔ فریق ثانی کی دشمنی کے باوجود وہ اس کے ساتھ بے انصافی نہ کریں ۔ وہ جو کچھ کریں، یہ سمجھ کر کریں کہ ان کو اللہ کے یہاں اس کا جواب دینا ہے۔ وہ اللہ کے معاملہ میں حساس اور انسانوں کے معاملہ میں غیر حساس بن جائیں۔ p. 228
مسلمان اگر اس طرح صبر و تقوی کا طریقہ اختیار کریں تو یقینی طور پر مخالفین کی ہر سازش بے اثر ہو جائے گی۔ ہر مخالفانہ تدبیر ان کے حق میں ناکام ثابت ہوگی۔ p. 228
مذکورہ آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ إِنَّ اللهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (3:120)۔یعنی،اللہ ان کی سرگرمیوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہ فقرہ بہت بامعنیٰ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے شرپسندوں کے شر سے بچاؤ کے لیے صبر و تقوی کے جس طریقہ کی تعلیم دی ہے، وہ ایک ایسا طریقہ ہے جو معاملہ کے اوپر پوری طرح حاوی ہے۔ وہ یقینی طور پر ایک بے خطا طریقہ ہے۔ وہ کبھی ناکام ہونے والا نہیں۔ p. 228original + quote
اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ وہ انسان کی سرشت اور اس کے مزاج سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس نے جو اصلاحی اور دفاعی تدبیر بتائی ہے، وہ اپنے علم کلی کے تحت بتائی ہے۔ اللہ کے لیے یہ ایک پوری طرح معلوم مسئلہ کا پوری طرح معلوم جواب ہے۔ یہ حل تمام متعلق پہلوؤں کا مکمل احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کوئی بھی صورت حال ایسی نہیں جو اس کے دائرۂ اثر سے خارج ہو۔ p. 229
ان خصوصیات نے اس حل کو ایک بے خطاحل بنا دیا ہے۔ تم جب بھی اس کو استعمال کرو گے، اس کا نتیجہ تمہارے حق میں ہی نکلے گا۔ کوئی بھی انسانی گروہ اس کے دائرہ سے باہر نہیں۔ شرانگیزی کی کوئی بھی آگ ایسی نہیں جو اس طریقہ کو کام میں لاکر بجھائی نہ جاسکتی ہو۔ اس تدبیر کے اندر ہر بم کو ناکارہ بنا دینے کی طاقت ہے، خواہ بظاہر وہ کیسا ہی خطر ناک بم کیوں نہ ہو۔ p. 229
صبر وشکر p. 229
ایک روایت کے مطابق p. 229
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے۔ اس کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر ہے۔ اور ایسا مومن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں ۔اگر اس کو آرام ملتا ہے تو وہ شکر کرتا ہے۔ پس وہ اس کے لیے خیر بن جاتا ہے۔ اور اگر اس پر مصیبت آتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے۔ پس وہ اس کے لیے خیر بن جاتا ہےعَنْ صُهَيْبٍ، قَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ، صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر2999)۔ p. 229unverified
The affair of the believer is truly strange. Every situation proves good for him and this is special to a believer alone. If he finds himself in a pleasant situation, he is thankful to God, and that is good for him. If he is faced with unpleasant situation he keeps patience and again that is good for him. p. 230
مومن کے ساتھ دو طرفہ خیر کا یہ معاملہ کسی پر اسرار سبب سے نہیں ہوتا ، وہ مکمل طورپر ایک معلوم سبب کے تحت پیش آتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ مومن اس انسان کا نام ہے جس کو دریافت کی سطح تک خدا کی معرفت حاصل ہوئی ہو۔ ایسے انسان کے اندر ایک ذہنی انقلاب آجاتا ہے۔ اس کے اندر شعوری بیداری کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ معاملات اور تجربات کو حقیقت کی نظر سے دیکھے۔ وہ وقتی جذبات سے بلند ہو کر معاملہ کی گہرائی کو سمجھ سکے۔ p. 230
مومن اپنی اس حقیقت شناسی کی بنا پر اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ جس تجربہ سے بھی گزرے وہ اس کو مثبت نتیجہ میں تبدیل کرسکے۔ وہ ہر واقعہ میں خدا کی کارفرمائی کو دیکھے۔ وہ ذاتی تجربہ کو خدا کے تخلیقی نقشہ میں رکھ کر دیکھ سکے۔ مومن کی یہی وہ صفات ہیںجو اس کے اندر یہ با معنٰی صلاحیت پیدا کردیتی ہیں کہ اس کو جب خوشی اور راحت کا تجربہ ہو تو وہ سرکش نہ بن جائے۔وہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھ کر خدا کی خدائی کا اعتراف کرے۔ اسی اعتراف خداوندی کا نام شکر ہے۔ شکر بلاشبہ ایک عظیم عبادت ہے۔ p. 230
تاہم دنیا کی زندگی میں آدمی کو ہمیشہ خوش گوار تجربے نہیں ہوتے۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو ناخوش گوار تجربات سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس وقت مومن کی شعوری بیداری اس کو اس سے بچا لیتی ہے کہ وہ اس پر شکایت یا فریاد کرنے لگے۔ وہ ناخوش گوار تجربہ کو خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق سمجھتا ہے۔ وہ ناخوش گوار تجربہ کو ایک فطری عمل سمجھ کر اس سے یہ یقین حاصل کرتا ہے کہ یہ ایک وقتی چیز ہے۔ حالات یقینا بدلیں گے اور وہ جلدہی مجھ کو زیادہ بہترزندگی عطا کریں گے، خواہ آج کی دنیا میں یا آج کے بعد بننے والی دوسری ابدی دنیا میں۔ p. 230
حقیقت یہ ہے کہ صبر بھی شکر ہی کی ایک صورت ہے۔ ناخوش گوار صورت حال کو رضامندی کے ساتھ قبول کرنا اور اس کو خدا کی طرف سے آیا ہوا مان کر مثبت ذہن کے تحت اس کا استقبال کرنا یہی صبر ہے۔ اور یہ صبر ہمیشہ شاکرانہ قلب سے ظاہر ہوتا ہے۔ ناشکری سے بھرا ہوا دل کبھی صبر کا ثبوت نہیں دے سکتا۔ p. 231