Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
شکر کی تربیت p. 31
شکر کا مزاج کیسے پیدا ہوتا ہے، اس کو ایک واقعہ سے سمجھا جاسکتا ہے۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ دوران گفتگو انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں اسلامی ذہن بنانے کے لیے بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں، مگر پچاس سالہ کوششوں کے باوجود اب تک اسلامی انداز میں لوگوں کی ذہنی تربیت نہ ہوسکی ۔ میں نے کہا کہ مجھے آپ کے بیان کے نصف ثانی سے اتفاق ہے۔ مگر مجھے اس کے نصف اول سے اتفاق نہیں ۔صرف اسلام کا نام لینے سے اسلامی تربیت نہیں ہوتی۔ اصل یہ ہے کہ اسلامی ذہن بنانے کے لیے صحیح رخ میں کوشش نہیں کی گئی ۔ جب سمت درست نہ ہو تو مطلوب نتیجہ کیسے نکل سکتا ہے ۔ اسلامی مزاج بنانے کی ابتدا خدا کی معرفت اور خدا کے شکر کا مزاج پیدا کرنے سے ہوتی ہے۔ p. 32original + quote
یہ مزاج کیسے پیدا ہوتا ہے۔اس کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ پاکستان سے شائع ہونے والے پندرہ روزہ المنبر کے شمارہ 25 ستمبر1991ء میں ’’ ضیاءالحق شہید فاؤنڈیشن‘‘ کے زیراہتمام ہونے والی کانفرنس کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا تھا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’’ ضیاء الحق فاونڈیشن کو فوری طور پر قوم کے کردار اور فکر کی تہذیب و تربیت کا کام شروع کرنا چاہیے‘‘۔ p. 32original + quote
مگر محض اس طرح اسلام کا نام لینے سے خدا کی معرفت اور اسلامی کر دار پیدا نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے ضرورت ہو تی ہے کہ لوگوں کو حیات و کائنات کا اس طرح مطالعہ کرایا جائے کہ ان کے گرد و پیش کی پوری دنیا ان کے لیے رزق ربانی کا دسترخوان بن جائے، تاکہ انسان خدا کی بلیسنگ کے ذریعہ خدا کی معرفت حاصل کرے، اور خدا کا شکر گزار بنے۔مگر مذکورہ میگزین میں سابق صدر جنرل ضیاء الحق صاحب کے تذکرہ کے تحت درج ہے کہ ’’یہ شہید صدر ہی تھے جن کی بدولت (سویت یونین ٹوٹنے کے بعد)قرآن مجید کے لاکھوں نسخے روس میں تقسیم ہوتے رہے‘‘(صفحہ 22)۔ المنبر میں دعوتی عمل کے واقعہ کو تمام تر ایک انسان کی بدولت ظہور میں آنے والا واقعہ بتایا گیا ہے۔ p. 32original + quote
اسی واقعہ کا ذکر الرسالہ (نومبر1990 ،صفحہ27) میں بھی کیا گیا ۔ سوویت سسٹم کا تجزیہ کرتے ہوئے راقم الحروف نے لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اعلیٰ تدبیروں کے ذریعہ حالات میں وہ تبدیلی پیدا کی جس کے نتیجہ میں سوویت یونین کی آہنی دیواریں ٹوٹ گئیں اور وہاں اسلام کا داخلہ ممکن ہو گیا ۔ p. 32original + quote
کوئی واقعہ پیش آئے تو اس کو دیکھنے کے دو طریقے ہیں— اس واقعہ کو اکابر قوم یا قومی ہیرو کے خانے میں ڈال کر دیکھنا۔ اس کے برعکس، دوسرا طریقہ ہے اس واقعہ کوخدا کے خانہ میں ڈال کر دیکھنا ۔الرسالہ کے مضمون کو پڑھ کر آدمی کے اندرشکر خدا وندی کا جذ بہ امنڈے گا۔ مزیداس کے اندر یہ جذبہ ابھرے گا کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں، ہم کو چاہیے کہ ہم ان کو استعمال کریں ۔ جب کہ المنبر کے بیان سے صرف ہیروورشپ کا جذبہ ابھرے گا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اسلامی تربیت کے لیے مسلمانوں کا موجوده طریقہ کس طرح ناکافی ہے۔ p. 33