Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
صبر نفسیاتی قربانی p. 205
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے یہودیوں اور عیسائیوں کی اکثریت نے آپ کا انکار کیا۔ تاہم ان کے کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ ان مومنین کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہےجن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں۔ اور جب وہ ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے ۔ بے شک یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے۔ ہم تو پہلے ہی سے اس کو ماننے والے ہیں۔ یہ لوگ ہیں کہ ان کو ان کا اجر دُہرا دیا جائے گا اس پر کہ انھوں نے صبر کیا(28:52-54)۔ p. 205original + quote
یہاںصبر سے مراد نفسیاتی صبر یا نفسیاتی قربانی ہے ۔ مذکورہ اہل کتاب(عبد اللہ بن سلّام، وغیرہ)نے جس ایمان کا ثبوت دیا، وہ نفسیات کی سطح پرصبر کی قربانی کے بغیر کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ p. 205
ارشاد ہوا ہے کہ ان کو دُہرا اجر دیا جائے گا۔ ایک اس بات پر کہ انھوں نے اپنی کتاب پر ایمان رکھا۔ اور دوسرا اس بات پر کہ وہ قرآن پر ایمان لائےمرة على إيمانهم بكتابهم، ومرةً على إيمانهم بالقرآن(صفوۃ التفاسیر، جلد2، صفحہ403)۔ p. 206original + quote
پہلا ایمان ان کو اس’’صبر‘‘کی قیمت دینے پر ملا کہ انھوں نے اپنے آپ کو قومی دین سے اوپر اٹھایا اور پیغمبرانہ دین کا حامل بننے کا ثبوت دیا جو قومی روایات میں گم ہو چکا تھا۔ دوسرے، ایمان کے لیے ان کو اس’’صبر‘‘کی قیمت دینی پڑی کہ انھوں نے ایک ’’اجنبی دین‘‘کو پہچانا اور تمام مصلحتوں کو نظر انداز کر کے اس کا ساتھ دیا۔ اس دوگونہ صبر پر وہ دُہرا اجر کے مستحق قرار پائے۔ p. 206
حقیقی ایمان کسی آدمی کو اس وقت ملتا ہے، جب کہ وہ اپنے آپ کو حالات سے اوپر اٹھانے کے لیے تیار ہو۔ اس کے لیے آدمی کو اپنی قوم سے کٹنا پڑتا ہے۔ اکابر کی حمایت سے محرومی کا خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔ ظواہر سے بلند ہو کر حقائق کو دیکھنا پڑتا ہے۔ مفادات کونظر انداز کر کے اصول کو اپنار ہنما بنانا پڑتا ہے۔ p. 206
یہ ایک بے حد سخت امتحان ہے۔ غیر معمولی نفسیاتی قربانی کے بغیر اس درجہ پر پہنچا ممکن نہیں۔ اس نفسیاتی صبر کے بغیر کوئی شخص حق کو نہیں پا سکتا اور نہ اعلیٰ ایمانی ترقی حاصل کر سکتا ۔ p. 206