Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
روزہ صبر کی تربیت p. 216
محدث بیہقی(وفات1066ء)نے’’شعب الایمان‘‘میں سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ کی ایک روایت رمضان سے متعلق نقل کی ہے۔ اس کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخر میں خطبہ دیا۔ اس میں آپ نے ماہ رمضان کا تذکرہ کیا اور فرمایاوَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ، وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر3608)۔ یعنی،وہ صبر کا مہینہ ہے اور صبرکا بدلہ جنت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روزہ صبر کی تربیت ہے اور صبر تمام کامیابیوں کا ذریعہ ۔ p. 216original + quote
دین میں سب سے پہلی چیز ایمان ہے ۔ ایمان کیا ہے۔ ایمان غیبی حقیقت کی دریافت ہے۔ آدمی اپنے آپ کو ظاہری فائدوں اور مادی رونقوں سے اوپر اٹھاتا ہے، تب اس کو باطنی گہرائیوں کا ادر اک ہوتا ہے۔ یہ ایک صابرانہ عمل ہے۔ اس صابرانہ عمل کے بغیر کسی کو ایمان کی اعلیٰ معرفت حاصل نہیں ہوتی۔ اس دنیا میں کوئی شخص ذہنی برداشت سے گزر کر ہی ذہنی یافت تک پہنچتا ہے۔ p. 216
مومن سے یہ مطلوب ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان اسلامی اخلاق کے ساتھ رہے۔ یہاں دوبارہ صبر کی ضرورت ہے۔ یہ دنیا ایسی دنیا ہے جہاں دوسروں کی طرف سے بار بار زیادتی کا تجربہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں لوگوں کے ساتھ اسلامی اخلاق کا معاملہ وہی شخص کر سکتا ہے جو لوگوں کی زیادتیوں کو برداشت کرے۔ اسلامی اخلاق یک طرفہ حسن سلوک کا نام ہے، اور صبر کے بغیر یک طرفہ حسن سلوک کا ثبوت دینا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ p. 217
مومن ایک داعی انسان ہوتا ہے۔ مومن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دوسرے بندگانِ خدا تک خداکے دین کا پیغام پہنچائے۔ دعوت کا یہ کام صبر کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ دعوتی عمل کے لیے ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا پائی جائے ۔ مدعو سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس قسم کی معتدل فضا پیدا کرے گا۔ اس لیے داعی کو یہ ذمہ داری لینی پڑتی ہے کہ وہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی تلخیوں کو نظر انداز کرے، تاکہ دعوت کا ماحول بگڑنے نہ پائے۔ اور تلخیوں کو نظر انداز کرنے کا یہ معاملہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی صبر کی سطح پر جینے کے لیے تیار ہو۔ p. 217
روزہ کا مہینہ اسی صبر کی تربیت کا مہینہ ہے۔ اور صبر وہ اعلیٰ انسانی صفت ہے جس میں دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔ p. 217
روزہ قربانی کا عمل ہے اور قربانی کا عمل سب سے زیادہ اعلیٰ عمل ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں روزہ کی اس امتیازی خصوصیت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے p. 217
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ، الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعمِائَة ضِعْفٍ، قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّإِلَّا الصَّوْمَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِفَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ(صحیح مسلم، حدیث نمبر1151) ۔ یعنی، حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کا ہر نیک عمل دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ بندہ اپنی شہوت کو اور اپنے کھانے کو میرے لیے چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشی ہے۔ ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری خوشی اس وقت جب وہ اپنے رب سے ملے گا۔ p. 218unverified
روزہ عام عبادات سے الگ ایک عبادت ہے۔ روزہ میں آدمی اپنی جائز خواہش کو اور اپنے جائز کھانے کو اللہ کی خاطر چھوڑ دیتا ہے۔ گویا روزہ دار روزہ رکھ کر اپنے اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ اللہ کی خاطر اگر اس کو انتہائی ضروری اور جائز چیزوں سے جدائی اختیار کرنا پڑے تو اس سے بھی وہ دریغ نہیں کرے گا۔ روزہ کی یہی وہ امتیازی خصوصیت ہے جس کی بنا پر اس کا امتیازی ثواب رکھا گیا ہے۔ p. 218
موجودہ دنیا میں حق پرست بننے کے لیے صرف یہی کافی نہیں کہ آدمی غلط اور صحیح کے درمیان تمیز کرتا ہو۔ مختلف حالات کے اعتبار سے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ممنوعات کی فہرست مزید وسیع ہو جاتی ہے۔ کبھی ضروری ہو جاتا ہے کہ آدمی کھانا پینا بھول کر اپنی ڈیوٹی انجام دے۔ وہ عمل کے بجائے اعراض کا طریقہ اختیار کرے ۔ وہ کرنے کا جذبہ رکھتے ہوئے بھی نہ کرے۔ الفاظ رکھتے ہوئے وہ نہ بولے اور پاؤں رکھتے ہوئے وہ نہ چلے۔ ایک کام کو بظاہر صحیح سمجھتے ہوئے بھی اس کی طرف اقدام کرنے سے باز رہے ۔ p. 218
روزہ اسی قربانی کا سبق ہے۔ اس دنیا میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک جائز چیز بھی آدمی کے لیے ناجائز بن جاتی ہے۔ اور ایک مطلوب چیز بھی نا مطلوب کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے۔ جو لوگ اس اعلیٰ ایمانی درجہ پر پورے اتریں، ان کے لیے اللہ کے یہاں اتنا بڑا اجر ہے جس کا نہ کوئی شمار ہے اور نہ کوئی حساب ۔ p. 218