Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ماضی میں جینا p. 430
لوگوں سے بات کیجیے تو اکثر لوگ، بلکہ شاید سبھی لوگ کسی نہ کسی کے خلاف کوئی شکایت لے کر منفی احساسات میں مبتلا رہتے ہیں۔ پورے معنوں میں مثبت سوچ والا آدمی شاید کوئی بھی آج کی دنیا میں موجود نہیں۔ p. 430
اِس قسم کی سوچ آدمی کے اندر منفی شخصیت (negative personality) پیدا کرتی ہے۔ اور منفی شخصیت کسی بھی عورت یامرد کے لیے خود کُشی سے کم نہیں۔ عام خود کشی اگر جسمانی خود کشی (physical suicide) ہے، تو منفی سوچ بلاشبہ نفسیاتی خود کشی (psychological suicide) ہے۔ p. 431
اِس معاملے میں لوگوں سے پوچھ گچھ(scrutiny) کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان کی شکایت کسی نہ کسی ایسے واقعے پر مبنی ہے جس کا تعلق گزرے ہوئے ماضی سے ہے۔ لوگوں کی یہ ایک تباہ کن عادت ہے کہ اگر اُن کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آجائے، تو وہ دوسروں سے اس کا چرچا کرتے ہیں، وہ ہمیشہ اس کو اپنی یاد (memory)میں لیے رہتے ہیں۔ یہی عادت کسی عورت یا مرد کے اندر منفی شخصیت کی تشکیل کا سب سے بڑا سبب ہے۔ p. 431
ہر عورت اور ہر مرد کو چاہیے کہ جب بھی اس کے ساتھ کوئی نا خوش گوار واقعہ پیش آئے، تو اُسی وقت وہ اس کو فراموشی کے خانے میں ڈال دے۔ وہ ہرگز دوسروںسے اس کا چرچا نہ کرے، بلکہ وہ کوشش کرکے ناخوش گوار واقعہ کے کسی خوش گوار پہلو کو تلاش کرے۔ اِس طرح وہ ایک منفی تجربے کو، مثبت تجربے میں تبدیل کردے، ٹھیک اُسی طرح جیسے ایک مسافر کے پاؤں میںکانٹا چبھ جائے، تو وہ اُسی وقت اس کانٹے کو نکال کر باہرپھینک دیتا ہے۔ وہ اس کو اپنی زندہ یادداشت (living memory) کا جزء نہیں بناتا۔ p. 431
دانش مند انسان وہ ہے جو تلخ یادوں کو بھلا دے۔ وہ اپنے ذہن کو ماضی کی ناخو ش گوار یادوں کا جنگل نہ بننے دے۔اس دنیا میں کامیاب زندگی کی اِس کے سوا کوئی اور صورت نہیں۔ p. 431