Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سفر کا آغاز p. 427
سفر کا آغازہمیشہ آج سے ہوتا ہے لیکن اکثر لوگ اپنے سفر کا آغاز کل سے کرنا چاہتے ہیں۔ یہی مزاج ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ اکثر لوگ غیر مطمئن زندگی گزار کر مرجاتے ہیں۔ وہ اپنا نشانہ پورا کیے بغیر موجودہ دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ p. 427
ہر آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو پیدا ہوتے ہی اس کو کچھ حالات ملتے ہیں۔ اگر بالفرض خارجی طورپر اس کو کچھ چیزیں نہ ملیں تب بھی اس کا اپنا وجود اس کو یقینی طور پر حاصل رہتا ہے۔ زندگی کے سفر کا سب سے زیادہ کامیاب آغاز یہ ہے کہ آدمی جہاں ہے وہیں سے وہ اپنا سفر شروع کردے۔ وہ حاصل شدہ مواقع کو استعمال کرکے اپنی دنیا بنائے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ جو چیز اس کو ابھی نہیں ملی ہے اس کو پانے کے لیے اپنی ساری توجہ لگا دے۔ اس طریقہ کو ایک لفظ میں پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم(positive status quoism) کہا جاسکتا ہے۔ یعنی ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر حالات موجودہ کو قبول کرلینا اور بروقت جو مواقع (opportunities)موجود ہیں ان کو استعمال کرکے پر امن انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کرنا۔ p. 428
پیدا ہونے کے بعد آدمی کو بروقت جوکچھ ملا ہوا ہوتا ہے وہ اس کو اپنے حوصلہ کے مقابلہ میں کم معلوم ہوتا ہے۔ وہ چاہنے لگتا ہے کہ پہلے زیادہ حاصل کرے اور اس کے بعد زندگی کی مثبت تعمیر کی طرف بڑھے۔ مگر یہ سوچ غیر فطری ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ملے ہوئے کو مواقع کی نظر سے دیکھا جائے اور اس کو لے کر فوراً ہی زندگی کی مثبت تعمیر شروع کردی جائے۔ p. 428
حاصل شدہ نقشۂ کار کے اندر مثبت جدوجہد کرنے کا نام پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم ہے۔ یہی کامیابی کا واحد طریقہ ہے۔ جو لوگ حاصل شدہ نقشۂ کار کو ناکافی سمجھ کر نئے نقشۂ کار کی طرف دوڑیں ان کے لیے اس دنیا میں تباہی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔ p. 428
زندگی کی جدوجہد ہمیشہ ملے ہوئے سے ہوتی ہے۔ جو لوگ نہ ملے ہوئے سے زندگی کی جدوجہد شروع کرنا چاہیں وہ یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ ان کی جدوجہد کبھی شروع ہی نہ ہو۔ p. 428