Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
حکمت ِ اعراض p. 362
ایک صاحب اپنے خط مورخہ 28ستمبر1999ءمیں لکھتے ہیںمیں نے ہندی اخبار ’’ہندستان‘‘کاشمارہ 28ستمبر1999ءپڑھا۔اس کے اداریہ میں یہ لکھاتھا کہ حال میں سورت(گجرات)میں ’’گنیش وسرجن‘‘کاجلوس نکلا۔اس موقع پر پولیس اورجلوس کے درمیان ٹکرائوہوگیا۔پتھرائواورفائرنگ کے نتیجہ میں جلوس کے آٹھ افراد ہلاک اورکئی درجن زخمی ہوگئے ۔یہ جلوس شہرکے مسلم محلہ کی ایک مسجد کے پاس سے گزررہاتھا۔ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ مسلم اورہندویامسلم اورپولیس کے درمیان لڑائی ہوجاتی مگر عملاً اس کا الٹاہوا۔ مسلمانوں نے وہاں پر صبر کا رویہ اپنایاجس کی وجہ سے انہیں اس کا پھل مل گیا۔اس میں کسی بھی مسلمان کا نقصان نہیں ہوا۔کیونکہ ٹکرائو انتظامیہ اورہندوئوں کے درمیان ہواتھا۔یہ پڑھ کرآپ کی وہ بات یاد آگئی جو آپ’’الرسالہ‘‘یاکئی دیگرکتابوں میں لکھ چکے ہیں ۔(سہیل احمد،حسن البنامنزل، جامعۃ الفلاح ،بلریاگنج،اعظم گڑھ) p. 362unverified
’’سورت‘‘کایہ واقعہ تمام اخباروں میں آچکاہے ۔اس واقعہ میں بہت بڑاسبق ہے ۔ اس سبق کی طرف الرسالہ میں باربارنشاندہی کی جاتی رہی ہے ۔وہ یہ کہ — مسلم کش فسادات کا اصل سبب جلوس کا نکلنااوراس کا مسلم محلہ سے گزرنانہیں ہے،بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ جب جلوس نکلے تو محلہ والے اس کے مقابلہ میں غیر حکیمانہ رویہ اختیار کریں ۔ حکیمانہ رویہ ہمیشہ حفاظت کا ضامن ہوتاہے اورغیرحکیمانہ رویہ ہمیشہ نقصان کا باعث بنتاہے۔ p. 362
اس معاملہ کا خلاصہ یہ ہے کہ جلوس کے وقت وہاں کے مسلمان اگر منفی رد عمل کا طریقہ اختیارکریں تو مسئلہ مسلم ورسس پولیس بن جائے گا۔اوراگر وہاں کے مسلمان ایسے موقع پر اعراض کارویہ اختیار کریں توسارامسئلہ جلوس ورسس پولیس بن جائے گا۔اس اصول کی صداقت باربارفسادات کی صورت میں سامنے آچکی ہے ۔سورت کا مذکورہ واقعہ اس حکمت کی ایک مثبت مثال ہے ۔ p. 362
دورِاول کے مسلمان مخالفین کی سازشوں اورزیادتیوں کے درمیان گھر ے ہوئے تھے۔اس وقت نصیحت کرتے ہوئے ان سے کہاگیاکہ اگر تم صبر کرواوراللہ سے ڈروتو ان کی کوئی سازش تم کو نقصان نہ پہنچائے گی(3:120)۔اب یہ غورکیجیے کہ دشمن کی سازشوں کے مقابلہ میں صبر کس طرح ڈھال بن جاتاہے ۔اورزیر سازش گروہ کو اس کے نقصان سے محفوظ رکھتاہے ۔ p. 363original + quote
اصل یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں جب بھی کوئی ناخوشگوارصورتِ حال پیش آئے تو اس کے مقابلہ میں ردِّعمل کی دوصورتیں ہیں ۔ایک یہ کہ اشتعال انگیزصورتِ حال کو دیکھ کر آدمی بھڑک اٹھے اورفوری جذبات کے تحت جوابی کارروائی کرنے لگے ۔اوردوسرایہ کہ فریقِ ثانی کی طرف سے اشتعال انگیزی کے باوجود وہ مشتعل نہ ہوبلکہ اپنے جذبات کو روک کرپورے معاملے پر غورکرے ۔اوراس کے بعد جو کچھ کرے ٹھنڈے ذہن کے تحت سوچ سمجھ کرکرے ۔ p. 363unverified
مذکورہ تقسیم میں پہلی قسم کے ردِّعمل کا نام غیر صابرانہ ردِّعمل ہے اوردوسری قسم کے ردِّعمل کانام صابرانہ رِّدعمل ۔دوسرے لفظوں میں اس فرق کو اس طرح بیان کیاجاسکتاہے کہ غیرصابرانہ ردِّ عمل پیش آمدہ صورتِ حال کا جذباتی جواب (emotional response) ہے ۔اس کے برعکس، صابرانہ ردِّ عمل یہ ہے کہ پیش آمدہ صورتِ حال کے مقابلہ میں جو جوابی کارروائی کی جائے وہ ایک سوچاسمجھاجواب (considered response)ہو۔ p. 363
صبر کوئی بے عملی نہیں ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی کے سامنے کوئی ناپسندیدہ صورتِ حال پیش آئے تو وہ پست ہمت ہوکربیٹھ جائے ۔حقیقت یہ ہے کہ صبر اعلیٰ ترین بہادری ہے ۔جب ایک آدمی بے صبری کے ساتھ جذباتی اقدام کرتاہے تو اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ وہ اپنے جذبات سے مغلوب ہوگیا۔اس کے برعکس، جب ایک آدمی صبر والی روش اختیارکرتاہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتاہے کہ اس نے اپنے بھڑکے ہوئے جذبات کو قابومیں رکھا۔اس نے اپنے جذبات کو اپنی عقل پر غالب ہونے نہیں دیا۔ p. 363