Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
رواداری کااصول p. 320
جنوری1995ءکی پہلی تاریخ کوتمام اخباروں میں یہ خبر تھی کہ اقوام متحدہ نے 1995ء کے سال کورواداری کاسال( Year of Tolerance) قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیویارک سے جاری ہونے والے اعلانیہ میں کہا گیا تھا کہ اپنے عمل، اپنے عقیدہ اور اپنی رائے میں روادار ہونا وہ سب سے بڑا عامل ہے جس کے ذریعہ پر امن دنیا تعمیر کی جا سکتی ہے۔ p. 320original + quote
موجودہ زمانہ میں جگہ جگہ نسلی ٹکرائو، اقلیتوں کے خلاف امتیاز اور پناہ گزینوں کے خلاف نفرت کا اظہار ہورہا ہے۔ا س کا واحد حل رواداری ہی ہے۔نسل پر ستی اور مذہبی انتہا پسندی بہت سے ملکوں میں امتیازی سلوک تک پہنچ گئی ہے۔ ان لوگوں کو ڈرایا دھمکا یا جارہا ہے جو مختلف نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ اس طرح ان مصنفوں اور صحافیوں کے خلاف تشددکے واقعات ہو رہے ہیں جو اظہارِ خیال کی آزادی کے حق کو استعمال کر نا چاہتے ہیں۔ p. 320
اکیسویں صدی کی آمد کے موقع پر یہ زبردست چیلنج ہمارے سامنے ہے اور اس کا واحد حل رواداری ہے۔نارواداری صرف مسائل میں اضافہ کرتی ہے۔ وہ مسائل کوختم نہیں کرتی۔ نارواداری اگر زیادہ بڑھ جائے تو وہ عالمی امن کے لیے ایک زبردست خطرہ بن جائے گی ۔ p. 320
1995 as Year of Tolerance p. 321
The United Nations has proclaimed 1995 as the Year of Tolerance,saying the ability to be tolerant of the actions, beliefs and opinions of others is a major factor in promoting world peace. Amid the resurgence of ethnic conflicts, discrimination against minorities and xenophobia directed against refugees and asylum-seekers, tolerance is the only way forward, said the statement of the United Nations Educational, Scientific and Cultural Organisation, (UNESCO). It said, racism and religious fanaticism in many countries had led to many forms of discrimination and the intimidation of those who hold contrary views. Violence and intimidation against authors, journalists and others who exercise their freedom of expression, were also on the increase along with political movements which seek to make particular groups responsible for social ills such as crime and unemployment. Intolerance is one of the greatest challenges we face on the threshold to the 21st century, said the UNESCO statement. Intolerance is both an ethnic and a political problem. It is a rejection of the differences between individuals and between cultures. When intolerance becomes organised or institutionalised it destorys democratic principles and poses a threat to world peace. (The Hindustan Times, January 1, 1995) p. 321unverified
اقوام متحدہ کا یہ اعلان نہایت صحیح اور بروقت ہے۔ آج دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہی رواداری یا ٹالرنس ہے۔ p. 321
زندگی کی حقیقتوں میں سے ایک حقیقت یہ ہے کہ انسان اور انسان کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ یہ فرق ہر سطح پر پایاجاتا ہے۔ خواہ کوئی خاندان ہو یا کوئی سماج ہو یا کوئی ملک ہو، ہر جگہ ایک اور دوسرے میں فرق اور اختلاف ضرور پایاجائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس فرق اور اختلاف کی موجود گی میں اتحاد اور میل ملاپ کس طرح پیداکیا جائے۔ p. 321
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اتحاد کاماحول اگر بنانا ہے تو اختلافات کو مٹادینا ہو گا۔مگر یہ رائے غلط ہے ،کیوں کہ وہ قابل عمل نہیں۔ اگر آپ پھول کے ساتھ کانٹے کو پسند نہ کرتے ہوں تو آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ کانٹوں کو توڑ کر کانٹوں کاخاتمہ کر دیں۔ کیوں کہ آپ ڈالی کا ایک کانٹا تو ڑیں گے تو اس کی جگہ دوسرا کانٹا نکل آئے گا۔ حتی کہ اگر آپ تمام پھولوں پر بلڈوزرچلادیں تب بھی جو نیا درخت اُگے گا، اس میں دوبارہ پھول کے ساتھ کانٹے بھی ضرور موجود ہوں گے۔ p. 321original + quote
اس دنیا میں کانٹوں کو گوارا کرکے ہی پھول کو حاصل کیا جا سکتا ہے ۔اسی طرح اختلافات کو برداشت کرکے ہی پرامن سماج بنایا جا سکتا ہے۔ اس دنیا میں اختلاف کے باوجود متحد ہو نے سے اتحاد حاصل ہوتا ہے، نہ کہ اختلاف کو مٹاکر متحد ہونے سے ۔کیوں کہ اختلاف کومٹانا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ امن کی زندگی کو حاصل کرنے کا واحد راز ہے— بے امنی کو گوار اکرنا۔ p. 322
دنیا میں فرق اور اختلاف ہونا کوئی برائی کی بات نہیں۔یہ ایک مثبت خصوصیت ہے اور اس کے بہت سے بڑے بڑے فائدے ہیں۔ باغ حیات کی خوشنمائی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اتحاد کے پھول کے ساتھ اختلاف کاکانٹا بھی پایاجائے۔ p. 322
اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ انسانوں میں اعلیٰ اخلاقیات کی تربیت ہوتی ہے۔اپنے ہم خیال لوگوں کے درمیان اگر آپ خوش اخلاق ہوں توآپ نے محض ابتدائی اخلاق کا ثبوت دیا۔لیکن اگر آپ ان لوگوں کے درمیان خوش اخلاقی کارویہ اختیار کریں جو آپ سے الگ خیال رکھتے ہیں یا آپ کے ناقدہیں تو آپ نے یہ استحقاق حاصل کیا کہ آپ کو اعلیٰ اخلاقی سلوک کاکریڈٹ دیاجائے۔ p. 322
اسی طرح اگر سماج میں تمام لوگ بالکل ایک رائے کے ہوں۔ ان میںکوئی اختلافی بحث نہ پیدا ہو تی ہو تو ایسا سماج پتھر کے اسٹیچو کاسماج بن جائے گا۔ اس کے درمیان رہنے والوں کی فکری ترقی رک جائے گی۔ فکری ترقی ہمیشہ افکار کے ٹکرائو کے درمیان ہوتی ہے ۔ پھرجہاں افکار کاٹکرائوہی نہ ہووہاں فکری ترقی کس طرح ہو سکتی ہے۔ p. 322
نزاع اور اختلاف کے مقابلہ میں رواداری کا طریقہ اختیار کرنا کوئی انفعالی صفت نہیں۔یہ عین ایجابی صفت ہے۔ زندگی کی تعمیر میں اختلافات کانہایت اہم رول ہے۔ اختلافات کے عمل کے دوران ہی اعلیٰ انسانی شخصیت بن کرتیا رہوتی ہے ۔ا گر انسانی سماج سے اختلاف کی حالت کو ختم کر دیاجائے تو اس کے بعد اعلیٰ شخصیتوں کا بننا بھی یقینی طور پر رک جائے گا۔ p. 322
اس دنیا میں کوئی بھی انسان کامل نہیں ہو تا۔ہر آدمی کایہ حال ہوتا ہے کہ اس میں ایک صفت ہوتی ہے تو دوسری صفت اس کے اندر نہیں ہوتی ۔ یہ بھی ایک سبب ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان فرق اور اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔ p. 323
مگر اجتماعی زندگی کے لیے یہ اختلاف ایک رحمت ہے۔کیوں کہ اسی اختلاف کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک آدمی کی کمی کو دوسراآدمی پورا کرے۔ ایک کی خصوصیت دوسرے کے کام آئے۔ اگر لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے اختلاف کو گوار اکرنے کامزاج ہوتو یہ اختلاف مجموعی انسانی ترقی کاایک طاقتور وسیلہ بن جائے گا۔ p. 323
1947ءکے بعد جب انڈیا میں پہلی آزادحکومت بنی تو اس میں دو اہم لیڈر شامل تھے۔ ایک پنڈت جواہرلال نہرو، دوسرے سردار ولبھ بھائی پٹیل۔ پنڈت نہرو کے اندر مغربیت تھی اور سردار پٹیل کے اندر مشرقیت۔ اس بنا پر دونوں لیڈروں میں اکثررائے کا اختلاف ہوجاتا تھا۔ مگر یہ اختلاف قوم کے لیے نہایت مفید ثابت ہوا۔ کیوں کہ پنڈت نہرو کی صلاحیت سے سردار پٹیل کی کمی پوری ہوئی، اور سردار پٹیل کی صلاحیت پنڈت نہرو کی کمی کو پورا کرنے کا ذریعہ بن گئی۔ p. 323
یہ ایک قریبی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رائے اور طبیعت کا اختلاف انسانیت کی عمومی ترقی کے لیے کتنا زیادہ ضروری ہے۔ p. 323
رواداری کی خصلت آدمی کو اس سے بچاتی ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کو غیرضروری چیز میں ضائع کرنے لگے۔ جب آپ کسی کی خلاف ِمزاج بات سے منفی اثرقبول کرلیں تو آپ کاذہنی اعتدال بگڑ جائے گا۔ اس کے برعکس، جب اس طرح کی صورت پیش آنے پر آپ اس کا منفی اثرنہ لیں تو آپ کاذہنی اعتدال پوری طرح برقرار رہے گا۔ آپ اپنا ایک لمحہ کھوئے بغیر ایک نارمل انسان کی طرح ہمیشہ اپنا کام جاری رکھیں گے۔ رواداری اور تحمل کی پالیسی آپ کی کارکردگی کی عمر کوبڑھاتی ہے، اور نارواداری اور عدم ِتحمل کارویہ آپ کی کارکردگی کی عمر کو گھٹادیتا ہے۔ p. 324
رواداری یا ٹالرنس کوئی مجبور انہ فعل نہیں، وہ زندگی کا ایک مثبت اصول ہے ۔ یہ ایک اعلیٰ انسانی کردار ہے۔کسی سماج میں روادار انسانوں کاہونا ایسا ہی ہے جیسے کسی باغ میں پھول کا ہونا۔ پھول کے بغیر باغ نہیں، اسی طرح روادار نسانوں کے بغیر ترقی یافتہ سماج نہیں۔(آل انڈیاریڈیو ممبئی سے3مارچ 1995ءکو نشرکیا گیا) p. 324