Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مسلمان عالمی محاصرہ میں p. 331
موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کا عام مزاج یہ ہے کہ مسلمان عالمی سطح پر زیر محاصرہ (under seige) ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ تمام قومیں مسلمانوں کی مخالف ہیں۔ تمام قوموں نے مسلمانوں کے خلاف سازش کر رکھی ہے۔ تمام قومیں متفقہ طور پر یہ چاہتی ہیں کہ مسلمان دوبارہ ابھرنے نہ پائیں، چنانچہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر سطح پر مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ p. 331
یہ سوچ سرتاسر ایک بے بنیاد سوچ ہے۔ خالص علمی اعتبار سے اِس کی کوئی حقیقت نہیں۔اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام خود خالق کے نقشے کے مطابق، مسابقت (competition)اور چیلنج پر قائم ہے۔یہ فطرت کا نظام ہے۔ اس نظام کی بناپر کوئی آگے بڑھتا ہے اورکوئی پیچھے ہوجاتاہے، کوئی پانے والا بنتا ہے اور کوئی کھونے والا۔یہ نظام اِس لیے ہے تاکہ زندگی کی سرگرمیاں جاری رہیں، تاکہ ہر فرد اور ہر گروہ کو عمل کا محرک (incentive) ملتا رہے۔ p. 331
فطرت کے اِس نظام کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک گروہ اپنی کوشش کے ذریعے آگے بڑھ جاتا ہے اور وہ دوسرے گروہ کو پیچھے چھوڑ دیتاہے۔ ایسی حالت میں پچھڑے ہوئے گروہ کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے، وہ کھوئی ہوئی بازی کو دوبارہ جیتنے کے لیے اپنی ساری توانائی خرچ کردے۔ زندگی کو چیلنج سمجھنا آدمی کو نیا جذبۂ عمل دیتا ہے۔ اِس کے برعکس، سازش اور دشمنی کا نظریہ آدمی کو منفی نفسیات میں مبتلا کرکے اس کو زندگی کی دوڑ میں پیچھے ڈال دیتا ہے۔ p. 331
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے رہنماؤں کی غلط رہنمائی کے نتیجے میں چیلنج کو محاصرہ سمجھ لیا۔ انھوںنے ایک مثبت واقعے کو خالص منفی رخ دے دیا۔ مسلمانوں کی یہی غلط سوچ ہے جس کی اصلاح میں ان کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ زمانے کے مسلمان زوال کا شکار ہوئے ہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں وہ اپنی اصلاح کرکے دوبارہ عروج تک پہنچ سکتے ہیں۔ p. 332
شکایت کو نفرت تک پہنچانا p. 332
ایک روایت حدیث کی کتابوں صحیح مسلم، ابوداؤد، الترمذی، ابن ماجہ، اورمسند احمد میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَلاَ يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر6077)۔ یعنی، ابوایوب انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ ے رہے۔ دونوں ملیں اور پھر وہ ایک دوسرے سے منہ پھیر لیں۔ دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ p. 332original + quote
انسانی تعلقات میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے ناخوش گوار تجربہ پیش آتا ہے۔ دونوں کے درمیان ناگواری بڑھتی ہے، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے ترکِ تعلق کرلیتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے ملنا اور سلام کرنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ p. 332
یہ طریقہ اسلامی شریعت میں جائز نہیں۔ ایسا کرنے والے لوگ سخت گنہ گار ہیں، وہ خدا کے یہاں اِس کے لیے پکڑے جائیں گے۔ p. 333
اِس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ اگر دونوں کے درمیان تلخی کا سبب غلط فہمی ہے تو غلط فہمی کو دور کرکے تعلق کو درست کرلیا جائے۔ اور اگر ایک آدمی دوسرے کے بارے میں یہ سمجھے کہ وہ بددیانت ہے تو ایسی حالت میں اُس کے لیے صرف یہ جائز ہے کہ وہ اُس سے مزید کوئی عملی معاملہ نہ کرے۔ لیکن جہاں تک ظاہری تعلق یا سلام وکلام کی بات ہے، وہ بدستور جاری رہنا چاہیے۔ p. 333
اِس طرح کے معاملات میںآدمی کو چاہیے کہ وہ سماجی تعلق کو بدستور برقرار رکھے۔ اِس کے آگے کا جو معاملہ ہے، وہ اُس کو خدا کے حوالے کردے۔ اِس طرح کے معاملے میں کسی سے سلام وکلام بند کرنا شکایت کو نفرت تک پہنچانا ہے، اور شکایت کو نفرت تک پہنچانا کسی کے لیے جائز نہیں۔ p. 333